باڑہ سیاسی اتحاد نے وادیٔ تیراہ اور باڑہ کے عوام کو درپیش بدامنی، آپریشنز اور متاثرین سے کیے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں 25 اپریل کو صبح 10 بجے عبدالبادشاہ کے حجرے پر قبائلی جرگہ منعقد کیا جائے گا، جس میں تمام مکاتب فکر سے شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
باڑہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اتحاد کے صدر ہاشم خان نے کہا کہ وہ تیراہ اور باڑہ کے مظلوم عوام کی آواز حکام بالا تک پہنچانے کے لیے میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی برسوں سے وادیٔ تیراہ بدامنی، گولہ باری اور مسلسل آپریشنز کی لپیٹ میں ہے، جس کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں، خصوصاً بچوں، خواتین اور بزرگوں کو پہنچ رہا ہے، جو خوف اور غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
پریس کانفرنس میں اے این پی کے حاجی شیرین، پی پی پی کے ڈاکٹر شیر شاہ، خیبر یونین کے مراد ساقی، تیراہ سیاسی اتحاد کے صدر زاہد، مسلم لیگ کے اصغر خان و ظاہر شاہ اور جے یو آئی کے اسد اللہ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔
ہاشم خان نے کہا کہ رواں سال جنوری اور فروری میں حالات انتہائی کشیدہ رہے، جس دوران تیراہ بریگیڈ کے سامنے پرامن احتجاج پر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ اسی طرح اکاخیل میں بمباری کے واقعے میں 21 افراد کی ہلاکت کو ایک بڑا سانحہ قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ گھروں پر اندھا دھند گولہ باری اور بمباری نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے، جبکہ باڑہ سیاسی اتحاد نے ہمیشہ عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور مختلف احتجاجی مظاہروں و دھرنوں کے ذریعے مطالبات پیش کیے ہیں۔
رہنماؤں نے بتایا کہ اکاخیل سانحے کے بعد صوبائی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوئے، جن میں سیاسی قیادت نے شرکت کی اور متاثرین کو امن کے قیام، معاوضے کی ادائیگی اور باعزت واپسی کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس مقصد کے لیے 24 رکنی (بعد ازاں 25 رکنی) کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جس نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ متعدد معاہدے کیے۔
اتحاد کے مطابق ان معاہدوں میں متاثرین کی باعزت واپسی، مالی معاوضہ، واپسی کی تاریخ، اور پائیدار امن سمیت 35 نکات شامل تھے، تاہم اب تک ان میں سے کسی پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ متاثرین کی رجسٹریشن اور معاوضے کے عمل میں بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں، جن میں کرایوں کی مد میں مبینہ خردبرد، اقربا پروری اور اصل متاثرین کی حق تلفی شامل ہے۔ اتحاد نے مطالبہ کیا کہ تمام فہرستیں فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائیں۔
پریس کانفرنس میں خبردار کیا گیا کہ تیراہ اور باڑہ میں بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں، جبکہ اکاخیل کی صورتحال بھی بدستور تشویشناک ہے۔
باڑہ سیاسی اتحاد نے واضح کیا کہ اگر متاثرین سے کیے گئے وعدوں پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو وہ احتجاجی تحریک، دھرنوں، جلسوں اور ریلیوں کا سلسلہ شروع کرے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
آخر میں اتحاد نے حکومت، سیکیورٹی اداروں اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاہدوں پر فوری عملدرآمد، شفاف معاوضے کی فراہمی، متاثرین کی باعزت واپسی اور خطے میں دیرپا امن کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی میڈیا، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کی گئی کہ وہ اس مسئلے کو اجاگر کریں۔
اعلامیے کے مطابق 25 اپریل 2026 کو عبدالبادشاہ کے حجرے پر منعقد ہونے والا قبائلی جرگہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کرے گا، اور تحریک کے اگلے مرحلے کا اعلان بھی اسی موقع پر کیا جائے گا۔
