چترال کے دور افتادہ علاقے لوتکوہ ویلی کے گاؤں گوبر باخ میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر برفانی چیتے نے مویشیوں کے باڑے میں داخل ہو کر پچاس سے زائد جانور ہلاک اور زخمی کر دیے۔ اس حملے کے نتیجے میں دو خاندانوں کے مال مویشی ایک ہی رات میں ختم ہو گئے، جبکہ اندازاً مالی نقصان آٹھ لاکھ پچاس ہزار روپے سے زائد بتایا جا رہا ہے۔
گوبر باخ ویلی جیسے بلند و بالا اور دشوار گزار علاقوں میں، جہاں کھیتی باڑی ممکن نہیں، مقامی آبادی کا انحصار مکمل طور پر مویشیوں پر ہوتا ہے۔ یہاں ایک خاندان عموماً 30 سے 200 تک جانور پالتا ہے، جو ان کی آمدنی، خوراک اور سماجی حیثیت کا بنیادی ذریعہ ہوتے ہیں۔ ایسے میں ایک رات کا نقصان پورے خاندان کو معاشی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔
واقعے کے اگلے روز سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی فیلڈ ٹیم اور محکمہ وائلڈ لائف چترال کے رینج آفیسر نے چھ گھنٹے کا سفر طے کر کے متاثرہ مقام کا معائنہ کیا۔ ابتدائی جائزے کے مطابق 18 کم عمر جانور ہلاک ہوئے، 26 بھیڑیں اور 10 بکریاں زخمی ہوئیں، جبکہ 4 جانور تاحال لاپتہ ہیں۔
مقامی افراد اور فیلڈ سروے کے مطابق برفانی چیتا ممکنہ طور پر باڑے میں موجود ایک تنگ راستے سے داخل ہوا، جس کے باعث مویشیوں میں افراتفری پھیل گئی۔ جانور باڑے سے باہر نکل کر بھاگے، جہاں چیتے نے حملے جاری رکھے۔ ماہرین کے مطابق ایک ہی رات میں بڑی تعداد میں شکار، گلے پر کاٹنے کے نشانات، اور ضرورت سے زیادہ ہلاکتیں برفانی چیتے کے شکار کے مخصوص انداز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ اس سے قبل 2019 میں بھی اسی علاقے میں ایسا ہی ایک حملہ رپورٹ ہوا تھا، جس میں 22 مویشی ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حالیہ واقعے سے چند ہفتے قبل علاقے میں ایک برفانی چیتا اپنے بچے کے ساتھ دیکھا گیا تھا، جس سے اس حملے کے امکان کو تقویت ملتی ہے۔
گوبر باخ ویلی میں چار بستیوں پر مشتمل تقریباً 147 گھرانے آباد ہیں، جو ملک کی مرکزی معاشی سرگرمیوں سے کٹے ہوئے ہیں۔ یہاں مویشی صرف روزگار نہیں بلکہ بچت، غذائی تحفظ اور معاشرتی وقار کا ذریعہ بھی ہیں۔
حملے کے بعد مقامی افراد میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، اور انہوں نے سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن کی ٹیم کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مدد فراہم نہ کی گئی تو برفانی چیتے کے خلاف انتقامی کارروائی کا خطرہ موجود ہے، جو تحفظِ جنگلی حیات کی کوششوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن نے متاثرہ خاندانوں کو فوری ویکسینیشن اور دستیاب وسائل کے تحت مزید امداد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف نے ولیج کنزرویشن کمیٹی کو فعال بنانے اور ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کو مؤثر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے، تاکہ مقامی آبادی کو جنگلی حیات کے تحفظ سے مالی فوائد حاصل ہو سکیں۔
ماہرین نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے چند اہم اقدامات تجویز کیے ہیں:
متاثرہ خاندانوں کو فوری ہنگامی مالی امداد فراہم کی جائے
مویشیوں کے تحفظ کے لیے مضبوط اور محفوظ باڑوں کی تعمیر کی جائے
لائیوسٹاک انشورنس اسکیم متعارف کروائی جائے
ویٹرنری خدمات اور ویکسینیشن کی سہولیات بہتر بنائی جائیں
متبادل ذرائع آمدن جیسے سیاحت، دستکاری اور چھوٹے کاروبار کو فروغ دیا جائے
انسانی و جنگلی حیات کے تنازعات سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے
پاکستان میں برفانی چیتے کی تعداد اندازاً 155 سے 220 کے درمیان ہے، اور یہ دنیا کے نایاب ترین بڑے شکاری جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ جانور انہی پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے جہاں ملک کی سب سے محروم آبادی رہتی ہے۔ ماہرین کے مطابق تحفظِ فطرت اسی وقت ممکن ہے جب مقامی کمیونٹیز کو اس عمل میں شامل کر کے انہیں براہِ راست فائدہ پہنچایا جائے۔
سنو لیپرڈ فاؤنڈیشن چترال کے ریجنل منیجر جمیع اللہ کے مطابق:
"یہ صرف انسان اور جنگلی حیات کا تنازعہ نہیں بلکہ نظراندازی کا نتیجہ ہے۔ جب تک ہم مقامی خاندانوں کو تحفظ فراہم نہیں کریں گے، ہم برفانی چیتے کو بھی محفوظ نہیں بنا سکتے۔"
فاؤنڈیشن نے خیبرپختونخوا حکومت، متعلقہ وفاقی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کریں، تاکہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے ساتھ ساتھ اس نایاب جانور کے تحفظ کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔
