پاکستان میں توہینِ مذہب سے متعلق قوانین ایک نہایت حساس اور جذباتی موضوع رہے ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے کئی واقعات سامنے آ چکے ہیں جہاں محض الزامات کی بنیاد پر افراد کو ہجوم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ قانونی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان طویل عرصے سے اس بات کی نشاندہی کرتے رہے ہیں کہ ان قوانین کے غلط استعمال اور ہجوم کے فوری ردعمل نے معاشرے میں خوف اور عدم برداشت کو بڑھایا ہے۔ ایسے ماحول میں کسی بھی الزام کی تصدیق سے پہلے ہی عوامی ردعمل شدت اختیار کر لیتا ہے، جو بعض اوقات افسوسناک سانحات کو جنم دیتا ہے۔
آج 13 اپریل 2026 ایک بار پھر اس سانحے کو یاد کر رہا ہے جس نے ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ آج مشال خان کی 9ویں برسی منائی جا رہی ہے، جنہیں12 اپریل 2017 میں مردان کی عبد الولی خان یونیورسٹی میں ایک مشتعل ہجوم نے تشدد کے بعد قتل کر دیا تھا۔
13 اپریل 2017 کو عبد الولی خان یونیورسٹی میں پیش آنے والا مشال خان قتل کیس پاکستان کی حالیہ تاریخ کے سب سے افسوسناک واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اس پر توہینِ مذہب کا الزام لگایا گیا، مگر بعد کی تحقیقات سے واضح ہوا کہ یہ الزامات جھوٹے اور بے بنیاد تھے۔ اس وقت مشال کی عمر صرف 23 سال تھی اور وہ صحافت کا طالبعلم تھا۔
مشال ایک روشن خیال، باشعور اور سوال اٹھانے والا نوجوان تھا۔ وہ معاشرتی برائیوں پر تنقید کرتا، اصلاح کی بات کرتا اور سچ بولنے سے نہیں گھبراتا تھا۔ یہی اوصاف، ایک شدت پسند ماحول میں، اس کے لیے خطرہ بن گئے۔
قتل کا واقعہ نہایت ہولناک تھا۔ یونیورسٹی کے احاطے میں ہی ایک مشتعل ہجوم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا، پھر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ افسوسناک امر یہ تھا کہ اس کی موت کے بعد بھی ہجوم کی درندگی ختم نہ ہوئی، اور اس کی لاش کی بے حرمتی کی جاتی رہی۔ یہ واقعہ اس بات کی بھیانک مثال ہے کہ جب ہجوم جذبات کے زیرِ اثر ہو جائے تو انسانیت کس طرح پامال ہو جاتی ہے۔
بعد ازاں، پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے کچھ کو سزائیں ہوئیں، کچھ بری ہو گئے، جبکہ بعض اب بھی قانون کی گرفت سے باہر ہیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس واقعے کی شدت عوامی یادداشت سے مدھم پڑتی گئی، اور افسوسناک طور پر بعض حلقوں نے قاتلوں کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔
مشال خان کا قتل محض ایک فرد کا قتل نہیں تھا، بلکہ یہ آزادیٔ فکر، آزادیٔ اظہار اور انسانی اقدار پر ایک کاری ضرب تھا۔ یہ سانحہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ایک ایسا معاشرہ جہاں الزامات تحقیق سے پہلے فیصلے بن جائیں، وہاں کسی بھی شخص کی جان غیر محفوظ ہو سکتی ہے۔
اس واقعے نے پاکستان کے باشعور طبقے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ مشال کے والد، اقبال لالہ، نے جس حوصلے اور استقامت سے انصاف کے لیے جدوجہد کی، وہ ایک مثال ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے کی یاد کو انصاف، شعور اور برداشت کے پیغام میں بدل دیا۔
آخرکار، مشال خان اس معاشرے کی ایک دردناک علامت بن چکا ہے—ایسا معاشرہ جو سوالات سے خائف ہو، اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرے، اور جذبات کے نام پر انصاف کو روند دے۔ اگر ہم نے اس رویے کا سنجیدگی سے جائزہ نہ لیا تو ایسے سانحات دوبارہ بھی جنم لے سکتے ہیں۔
