متاثرین نے حکومتی وعدوں کی عدم تکمیل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مکمل امن کی بحالی تک وہ اپنے علاقوں کو واپس نہیں جائیں گے۔
باڑہ پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وادی تیراہ سیاسی اتحاد کے نمائندگان، جن میں زاہد آفریدی، شاہین سحر آفریدی اور دیگر شامل تھے، نے کہا کہ دو ماہ گزر جانے کے باوجود بھی متاثرین سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔ ان کے مطابق حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مالی امداد—فی خاندان ڈھائی لاکھ روپے اور ماہانہ پچاس ہزار روپے—تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کی گئی۔
نمائندگان کا کہنا تھا کہ آج بھی آدھے سے زائد متاثرین حکومتی امدادی پیکج سے محروم ہیں، جس کے باعث وہ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ متاثرین کی واپسی کا انحصار علاقے میں مکمل امن کے قیام پر ہے، اور جب تک سیکیورٹی کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہوتی، وہ واپسی کا فیصلہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید اعلان کیا کہ باڑہ سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام ہونے والے آئندہ اجلاس میں بھرپور شرکت کی جائے گی، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کرتے ہوئے متاثرین کے حقوق کے لیے مشترکہ حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔
پریس کانفرنس کے دوران صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فوری طور پر اپنے وعدے پورے کرے اور متاثرین کو درپیش مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھائے، تاکہ بے گھر افراد کی مشکلات کا جلد ازالہ ممکن ہو سکے۔
