پاکستان نے گزشتہ دہائی میں بچوں کی ویکسین تک رسائی کے میدان میں ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے نہایت خوش آئند پیش رفت ہے۔ سنہ 2015 میں ملک بھر میں 11 لاکھ سے زائد بچے ایسے تھے جنہیں ایک بھی حفاظتی ٹیکہ نہیں لگا تھا، جنہیں "زیرو ڈوز" بچے کہا جاتا ہے۔ یہ صورتحال تشویشناک تھی کیونکہ یہ بچے پولیو، خسرہ اور نمونیا جیسی مہلک بیماریوں کے شدید خطرے سے دوچار تھے۔

تاہم، حکومتی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور صحت کے شعبے سے وابستہ کارکنان کی مسلسل کوششوں، مؤثر ویکسین مہمات اور عوامی آگاہی پروگرامز کے باعث 2024 تک اس صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ "زیرو ڈوز" بچوں کی تعداد میں تقریباً 65 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ کم ہو کر لگ بھگ 3 لاکھ 97 ہزار رہ گئی۔

یہ کامیابی محض اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ ہر وہ بچہ جسے بروقت ویکسین میسر آتی ہے، اس کے والدین کے لیے اطمینان اور سکون کا باعث بنتا ہے۔ صحت مند بچپن، محفوظ نشوونما اور بلا خوف زندگی گزارنے کے مواقع اب پہلے سے کہیں زیادہ ممکن ہو چکے ہیں۔ والدین اب اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے اور کھیلوں میں حصہ لینے کے حوالے سے زیادہ پُراعتماد ہیں۔

بچوں تک ویکسین کی بڑھتی ہوئی رسائی پاکستان کے نظامِ صحت کی مضبوطی اور روشن مستقبل کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ نسل کو بیماریوں سے محفوظ بناتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک صحت مند بنیاد فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، صحت مند بچے بہتر تعلیم حاصل کر کے ملک کی معاشی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔

اس کامیابی میں کمیونٹی کی شمولیت بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحت کارکنان اور رضاکاروں نے گھر گھر جا کر والدین کو ویکسین کی اہمیت سے آگاہ کیا اور بچوں کو ویکسین لگوانے کے لیے سہولت فراہم کی۔ اس عمل سے نہ صرف ویکسین کی رسائی بڑھی بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوا۔

یہ پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا ہے جہاں ہر بچے کو بیماریوں کے خطرات سے محفوظ زندگی میسر ہو سکتی ہے۔ اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو ملک صحت مند، مضبوط اور روشن مستقبل کی جانب گامزن رہے گا۔