اسلام آباد: پاکستان میں صحت کو بنیادی انسانی حق قرار دیا جاتا ہے، تاہم عملی طور پر عام شہری کو علاج کے حصول کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ سرکاری و نجی دونوں شعبوں میں سہولیات کی کمی، بڑھتے اخراجات اور انتظامی مسائل نے صحت کے نظام کو ایک سنگین بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو طویل قطاروں، ادویات کی قلت، خراب طبی آلات اور عملے کی کمی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ مریض صبح سویرے ہسپتال پہنچتے ہیں، لیکن کئی گھنٹوں کے انتظار کے باوجود بعض اوقات ڈاکٹر کی عدم موجودگی یا سہولتوں کی کمی کے باعث بغیر علاج واپس لوٹنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال مریضوں میں ذہنی دباؤ اور مایوسی کو مزید بڑھا رہی ہے۔
دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات کی صورتحال مزید تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ بنیادی صحت مراکز کی بڑی تعداد یا تو غیر فعال ہے یا وہاں ضروری سہولیات دستیاب نہیں۔ زچگی کے دوران خواتین کو طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں، جہاں خراب سڑکیں اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔ متعدد واقعات میں ماں یا نومولود کی ہلاکتوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
دوسری جانب نجی ہسپتالوں میں علاج کی بڑھتی ہوئی لاگت عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ مہنگی ادویات، ٹیسٹ اور فیسوں کے باعث کم آمدنی والے خاندان علاج اور روزمرہ ضروریات کے درمیان انتخاب پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کی سہولت کا محدود طبقے تک سمٹ جانا معاشرتی عدم مساوات میں اضافے کا سبب بن رہا ہے۔
صحت کے شعبے کو قومی ترجیحات میں مناسب اہمیت نہ ملنا بھی بحران کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ بجٹ میں صحت کے لیے مختص رقم خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، جس کے باعث انفراسٹرکچر، عملے اور سہولیات میں بہتری ممکن نہیں ہو پا رہی۔ ماہرین کے مطابق وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
ذہنی صحت کے مسائل بھی بڑھتے ہوئے چیلنج کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ جیسے امراض کے لیے مناسب مراکز اور تربیت یافتہ ماہرین کی کمی ہے، جبکہ معاشرتی سطح پر آگاہی نہ ہونے کے باعث لوگ بروقت علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایک صحت مند قوم ہی ترقی کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب تک ہر شہری کو بروقت، معیاری اور باعزت علاج کی سہولت فراہم نہیں کی جاتی، صحت کا بحران برقرار رہے گا۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت کے شعبے کو قومی ترجیحات میں شامل کرتے ہوئے عملی اور مؤثر اصلاحات کی جائیں۔
