گزشتہ چند دنوں میں سوشل میڈیا پر یہ خبر گردش کر رہی تھی کہ ضلع مردان کے تحصیل کاٹلنگ میں دو بچے جماعت دہم کے پرچے دینے کے لیے سکول گئے، لیکن واپس نہیں آئے۔ والدین نے فوری طور پر پولیس اور میڈیا کو اطلاع دی۔ مقامی پولیس نے دن رات محنت کر کے بچوں کو بازیاب کرایا، جس میں ان کی کارکردگی واقعی قابلِ تعریف ہے۔
تاہم، بازیابی کے بعد ایک مقامی پولیس افسر نے پریس کانفرنس کے دوران بچوں کو میڈیا کے سامنے، والدین اور باوردی اہلکاروں کی موجودگی میں کھڑا کیا اور ان کے مکمل نام لے کر کہا کہ یہ دونوں بچے اپنی مرضی سے بھاگے تھے۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کی واضح ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی شیئر کی گئیں۔ یہ اقدام نہ صرف غیر مناسب اور غیر اخلاقی ہے بلکہ قانونی اور بین الاقوامی معیارات کی بھی خلاف ورزی ہے۔
پاکستان کے بچوں کے تحفظ کے قوانین اور میڈیا کے ضوابط واضح طور پر بچوں کی پرائیویسی اور شناخت کے تحفظ کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن (UN CRC) کے مطابق ہر فیصلے میں "بچے کا بہترین مفاد" اولین ترجیح ہے۔ بچوں کی شناخت کا عوامی طور پر افشا کرنا ان کے جذباتی سکون اور سماجی تحفظ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور انہیں سماجی داغ یا ذہنی صدمے کا شکار بنا سکتا ہے۔
حکومتی اداروں، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں اور میڈیا پر واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی تصاویر، نام یا ذاتی تفصیلات کو کسی بھی عوامی فورم پر ظاہر نہ کریں۔ پولیس اور دیگر ادارے بچوں کے حقوق اور حساسیت کے حوالے سے تربیت حاصل کریں تاکہ ہر کارروائی بچوں کے بہترین مفاد کے مطابق ہو۔
بچوں کی شناخت کا تحفظ صرف قانونی تقاضہ نہیں بلکہ اخلاقی فریضہ بھی ہے۔ بچوں کو صرف قانونی کارروائی کا حصہ نہ سمجھا جائے بلکہ انہیں فرد کے طور پر حقوق اور تحفظ کے حقدار کے طور پر پیش نظر رکھا جائے۔
