سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین تعلیمی بورڈ مردان نے کاٹلنگ تحصیل کے لاپتہ طالب علم کی بحفاظت بازیابی کے بعد کلسٹر سسٹم پر ہونے والی تنقید کو “منفی پراپیگنڈہ” قرار دیتے ہوئے اسے بے بنیاد ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا واقعی تمام خدشات محض پراپیگنڈہ تھے، یا اس واقعے نے ایک بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے جسے نظرانداز کیا جا رہا ہے؟
بلاشبہ طالب علم کی بحفاظت واپسی ایک خوش آئند پیش رفت ہے اور مردان پولیس کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ مگر اس ایک کامیاب واقعے کو کلسٹر سسٹم کی مکمل کامیابی کے طور پر پیش کرنا ایک منطقی مغالطہ ہے۔ کسی ایک مسئلے کا حل پورے نظام کی خامیوں کو ختم نہیں کر دیتا، کیونکہ کسی بھی پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ اس کے مجموعی اثرات ہوتے ہیں، نہ کہ انفرادی واقعات۔
کلسٹر سسٹم پر اٹھنے والی آوازوں کو “مفاد پرست قوتوں” سے جوڑ دینا دراصل ایک سنجیدہ عوامی بحث کو دبانے کے مترادف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ والدین، طلبہ اور اساتذہ کی ایک بڑی تعداد اس نظام کے بارے میں سنجیدہ تحفظات رکھتی ہے۔
یہ خدشات محض قیاس آرائیاں نہیں بلکہ عملی مشکلات سے جڑے ہوئے ہیں۔ دور دراز امتحانی مراکز تک رسائی، طلبہ کی حفاظت کے خدشات، نقل و حمل کے مسائل، اجنبی ماحول میں امتحان دینے کا ذہنی دباؤ اور بعض مقامات پر انتظامی بدنظمی جیسے مسائل بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ ایسے نکات کو نظرانداز کرنا مسئلے کو حل نہیں کرتا بلکہ مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
تنقید کو یکسر مسترد کرنا اور اختلاف رائے رکھنے والوں کو بدنام کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اس کے برعکس یہ ایک صحت مند مکالمے کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔
مزید یہ کہ “نقل کی وبا” کے خاتمے کو جواز بنا کر ہر پالیسی کو بلا تنقید قبول کروانا بھی مناسب نہیں۔ نقل کی روک تھام یقیناً ضروری ہے، مگر اس کے لیے ایسے اقدامات درکار ہیں جو طلبہ کی سہولت، تحفظ اور نفسیاتی کیفیت کو بھی مدنظر رکھیں۔ اگر کوئی نظام نقل کو کم کرنے میں تو کامیاب ہو جائے مگر طلبہ کو غیر ضروری مشکلات یا خطرات سے دوچار کرے تو اس پر نظرِ ثانی ناگزیر ہو جاتی ہے۔
اسی طرح کسی ایک واقعے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرنا کہ “عوام جان چکی ہے” بھی مبالغہ آرائی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوامی رائے یکساں نہیں بلکہ منقسم ہے، اور یہی جمہوری معاشروں کا حسن ہے کہ مختلف آراء کو سنا اور سمجھا جائے۔
تعلیمی اصلاحات کی کامیابی صرف حکومتی احکامات پر عمل درآمد سے نہیں بلکہ شفاف مکالمے، تنقید کو برداشت کرنے اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر واقعی مقصد میرٹ اور شفافیت کا قیام ہے تو ضروری ہے کہ کلسٹر سسٹم کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے نقصانات پر بھی کھلے دل سے گفتگو کی جائے۔
آخر میں اصل سوال یہ نہیں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا تعلیمی نظام تشکیل دے رہے ہیں جو طلبہ کے لیے محفوظ، منصفانہ اور قابلِ عمل ہو؟ اگر اس سوال کا جواب ابھی تک واضح نہیں تو تنقید کو دبانے کے بجائے اسے سننا اور اس سے سیکھنا ہی دانشمندی ہے۔ مزید یہ کہ اگر یہ بھی واضح نہیں کہ کلسٹر سسٹم کے نفاذ سے نقل کے رجحان میں واقعی خاطر خواہ کمی آئی ہے یا نہیں، تو اس پالیسی پر سنجیدہ نظرِ ثانی ناگزیر نظر آتی ہے۔
