خیبر پختونخوا میں لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے نوجوان طالبات نے آئندہ مالی سال 2026–2027 کے ترقیاتی تعلیمی بجٹ میں کم از کم 25 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت سے کہا ہے کہ لڑکیوں کی ثانوی تعلیم کو ترجیح دی جائے۔

یہ مطالبہ پشاور میں منعقدہ قیادت اور وکالت سے متعلق ایک تربیتی ورکشاپ کے دوران سامنے آیا، جس کا انعقاد بلو وینز نے ملالہ فنڈ کے تعاون سے کیا۔ ورکشاپ میں نوعمر لڑکیوں کو تعلیمی نظام، بجٹ سازی کے عمل اور پالیسی سازی پر اثر انداز ہونے کے طریقوں کے بارے میں آگاہی فراہم کی گئی۔

ورکشاپ میں “رائز اینڈ شائن گرلز ایجوکیشن لیڈرشپ نیٹ ورک” سے وابستہ طالبات نے شرکت کی۔ یہ ایک ابھرتا ہوا پلیٹ فارم ہے جو لڑکیوں کی قیادت میں قائم کیا گیا ہے اور صوبے میں تعلیمی اصلاحات کے عمل میں نوجوان آوازوں کو نمایاں کر رہا ہے۔

تعلیمی مسائل اور مطالبات

ورکشاپ کے دوران طالبات نے تعلیم تک رسائی میں حائل مختلف رکاوٹوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ایک مشترکہ مطالباتی ایجنڈا پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی بجٹ میں اضافہ، اسکولوں کی سولرائزیشن، اساتذہ کی کارکردگی میں بہتری، اضافی کلاس رومز کی تعمیر، محفوظ ٹرانسپورٹ، کھیلوں کے لیے مخصوص وقت، سائنسی و کمپیوٹر لیبارٹریز کی فراہمی، وظائف اور تعلیمی مواد کی دستیابی، صاف پانی، ابتدائی طبی سہولیات اور ماہواری صحت کی سہولیات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

شرکاء کو قیادت، مؤثر ابلاغ، وکالت اور شہری شمولیت سے متعلق عملی تربیت بھی دی گئی تاکہ وہ تعلیمی مسائل کی نشاندہی کر کے پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں، کمیونٹیز اور میڈیا تک اپنی آواز مؤثر انداز میں پہنچا سکیں۔

شرکاء کی آراء

نیٹ ورک کی رکن عائشہ میر نے کہا:
“ہم صرف طالبات نہیں بلکہ رہنما بھی ہیں۔ اگر تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں تو ہر لڑکی اپنی تعلیم مکمل کر کے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتی ہے۔”

بلو وینز کی پروگرام آفیسر یمنٰی آفتاب کے مطابق پاکستان کا آئین ہر بچے کو تعلیم کا حق دیتا ہے، تاہم اب بھی لاکھوں لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری بڑھانا اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔

اسی طرح ملالہ فنڈ پاکستان کے پارٹنرشپ مینیجر محمد علی کا کہنا تھا کہ جب لڑکیاں تعلیمی نظام کو سمجھتی ہیں اور اپنی تعلیم سے متعلق فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہیں تو وہ پورے نظام میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہیں۔

عزم کا اظہار

ورکشاپ کے اختتام پر والدین، اساتذہ اور شرکاء نے لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے مشترکہ عزم کا اظہار کیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ وہ رائز اینڈ شائن گرلز ایجوکیشن لیڈرشپ نیٹ ورک کے ذریعے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے تاکہ خیبر پختونخوا میں ایک منصفانہ، جامع اور بہتر تعلیمی نظام قائم کیا جا سکے۔