پاکستان میں جنسی تشدد سے متعلق قوانین میں اصلاحات اور سزاؤں میں اضافے کے باوجود متاثرین کو مؤثر انصاف اور تحفظ فراہم کرنے میں خاطر خواہ بہتری نہیں آ سکی۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ایکوایلیٹی ناؤ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قوانین کے کمزور نفاذ، تحقیقات میں تاخیر اور عدالت سے باہر ہونے والے غیر قانونی سمجھوتوں کے باعث ریپ کے مقدمات میں سزا کی شرح انتہائی کم یعنی صرف 0.5 فیصد ہے۔

تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ناقص شواہد جمع کرنے کا نظام، سرکاری استغاثہ کے وکلاء کی کمی اور متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانے کا رجحان بھی انصاف کی فراہمی میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس، سرکاری وکلاء اور عدالتیں اکثر ریپ اور رضامندی سے متعلق محدود اور فرسودہ تشریحات استعمال کرتی ہیں، جبکہ متاثرین کو قانونی امداد، نفسیاتی و سماجی معاونت، محفوظ پناہ گاہوں اور گواہوں کے مؤثر تحفظ تک رسائی میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق محروم اور پسماندہ طبقات، خصوصاً مسیحی اور ہندو برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور لڑکیاں، جنسی ہراسانی، اغوا اور جبری مذہب تبدیلی کے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں۔ اسی طرح معذوری کا شکار خواتین کو دیگر خواتین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایکوایلیٹی ناؤ کی عالمی سربراہ جیکوئ ہنٹ نے کہا کہ پاکستان نے جنسی تشدد سے متعلق قوانین کو مضبوط بنانے میں اہم پیش رفت کی ہے، تاہم اب ان قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بہتر وسائل، تربیت اور احتساب کے ذریعے قانون کے مستقل نفاذ کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

شواہد اور تحقیقات کے نظام میں کمزوریاں

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی قانون کے مطابق ریپ کی تعریف رضامندی کی عدم موجودگی پر مبنی ہے اور جسمانی تشدد کے شواہد لازمی نہیں۔ تاہم عملی طور پر قانون نافذ کرنے والے ادارے اکثر جسمانی مزاحمت یا چوٹ کے شواہد پر انحصار کرتے ہیں۔

تحقیقات کے دوران پولیس عام طور پر طبی شواہد، خصوصاً ڈی این اے، پر زیادہ انحصار کرتی ہے جبکہ دیگر سائنسی اور غیر سائنسی شواہد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ وسائل کی کمی بھی شواہد جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔

عدالتی تاخیر اور طبی سہولیات کی کمی

رپورٹ کے مطابق فوری انصاف فراہم کرنے والی عدالتوں کے قیام کے باوجود جنسی تشدد کے مقدمات میں تاخیر اور طریقۂ کار سے متعلق مسائل برقرار ہیں۔ پولیس، استغاثہ اور خواتین کے طبی و قانونی معائنہ کرنے والے افسران کے درمیان کمزور رابطہ بھی انصاف کے عمل کو متاثر کرتا ہے۔

بروقت طبی معائنہ شواہد جمع کرنے کے لیے نہایت اہم ہے، مگر خواتین کے طبی و قانونی معائنہ کرنے والے افسران کی کمی کے باعث متاثرین کو اکثر معائنے کے لیے دور دراز علاقوں کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

قانونی تضادات اور اصلاحات کی ضرورت

رپورٹ میں ازدواجی زیادتی، محرم رشتوں میں جنسی زیادتی اور کم عمری کی شادی سے متعلق قوانین کو مزید واضح اور مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

پاکستان میں بچوں کی شادی کے قوانین صوبوں کے درمیان مختلف ہیں۔ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد میں لڑکیوں کی شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر ہے، جبکہ خیبر پختونخوا میں یہ عمر 16 سال ہے۔ رپورٹ کے مطابق پورے ملک میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے سے قانونی خلا کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کی مرکزی مصنفہ سحر بندیال کے مطابق پاکستان میں جنسی تشدد سے متاثرہ افراد کے لیے انصاف تک رسائی اب بھی ایک طویل اور مشکل عمل ہے، اور حقیقی بہتری کے لیے قوانین کے مؤثر نفاذ اور متاثرین کے لیے معاون خدمات کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔