خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے گروپ لیڈر سید جواد حسین کاظمی اور صدر محمد یوسف آفریدی نے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے زیر اہتمام منعقدہ اہم ڈائیلاگ ”بیونڈ باؤنڈریز ، ریجنل اکنامک کنیکٹیویٹی ڈائیلاگ” میں شرکت کی۔
اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں پالیسی ساز، کاروباری رہنما اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز نے خطے میں اقتصادی روابط، تجارتی سہولت کاری اور سرحد پار رابطوں کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔
گروپ لیڈر سید جواد حسین کاظمی نے کہا کہ خیبر پختونخوا وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارت کے لیے ایک کلیدی گیٹ وے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مربوط پالیسی سازی، جدید بارڈر انفراسٹرکچر اور موثر ٹرانزٹ نظام ناگزیر ہیں۔
خصوصی طور پر طورخم بارڈر کی بار بار بندش پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور دوطرفہ تجارت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحدی بندشوں کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیوں کا تسلسل یقینی بنایا جا سکے۔
صدر محمد یوسف آفریدی نے بھی کہا کہ پاک-افغان تجارت خطے کی معاشی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بارڈر بندشیں، غیر ضروری تاخیر اور غیر ٹیرف رکاوٹیں کاروباری سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اعتماد سازی کے اقدامات پر بھی زور دیا۔
خیبر چیمبر نے اس موقع پر کہا کہ ایسے پلیٹ فارمز اسٹیک ہولڈرز کے روابط کو مضبوط بنانے اور مشترکہ اقتصادی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
چیمبر نے یقین دہانی کرائی کہ وہ علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی روابط کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور کاروباری برادری کے مسائل کو ہر فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔
