جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک بازار کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقہ مکینوں کے مطابق بازار کی سڑکیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ کیچڑ اور گندے پانی کے باعث وہاں سے گزرنا بھی دشوار ہو گیا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بازار کی بدحال صورتحال نے روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے اور شہریوں کو شدید اذیت کا سامنا ہے، لیکن متعلقہ حکام اور منتخب نمائندے اس سنگین مسئلے پر توجہ دینے کے بجائے خاموش دکھائی دیتے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ رکن قومی اسمبلی زبیر خان وزیر اور متعلقہ رکن صوبائی اسمبلی عوامی مسائل کے حل میں خاطر خواہ دلچسپی نہیں لے رہے۔ ان کے مطابق سیاست کو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات تک محدود کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے دوران ترقیاتی منصوبوں اور مسائل کے حل کے بڑے بڑے وعدے کیے گئے تھے، تاہم کامیابی کے بعد عوام کو نظر انداز کر دیا گیا۔ ان کے بقول نہ تو منتخب نمائندے علاقے کا دورہ کرتے ہیں اور نہ ہی مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
مقامی افراد نے اس صورتحال کو انتظامی نااہلی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ آیا عوام کو اس حالت میں چھوڑ دینا انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی کارکردگی ہے تو ایسے نمائندوں کی موجودگی یا عدم موجودگی میں کوئی خاص فرق باقی نہیں رہتا۔
علاقہ مکینوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور ان نمائندوں سے جواب طلبی کریں جو صرف انتخابات کے دوران عوام سے رابطہ کرتے ہیں۔
اس موقع پر شہریوں نے سابق رکن صوبائی اسمبلی نصیراللہ خان وزیر کے دور میں جنوبی وزیرستان لوئر کے لیے منظور کیے گئے بیوٹیفکیشن فنڈز کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان فنڈز کے استعمال کے بارے میں تاحال کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور فنڈز کے استعمال کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
مقامی افراد کے مطابق جنوبی وزیرستان لوئر کے عوام کو پاکستان تحریک انصاف سے بڑی تبدیلی کی امیدیں وابستہ ہیں، تاہم موجودہ صورتحال ان توقعات کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ شہریوں نے حکومت اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں اور اعظم ورسک بازار کی بحالی کے لیے عملی اقدامات کریں۔
