پشاور میں نامور یورولوجسٹ اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کے بانی ڈاکٹر اصف ملک کو ہسپتال سے گھر جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے فائرنگ کا نشانہ بنا دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر پشاور جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت یونٹ آئی سی یو میں داخل کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
سینیئر صحافی ارشد عزیز کے مطابق واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈاکٹر اصف ملک ہسپتال سے اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے۔ اچانک نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔
ڈاکٹر اصف ملک کے اہلِ خانہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی صحت یابی کے لیے دعا کریں۔ ساتھ ہی سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں سے گریز کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ غلط معلومات پھیلنے سے روکا جا سکے۔
واقعے کے فوراً بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میں آ گئے ہیں۔ پولیس نے ہسپتال اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کر لی ہے اور ملزمان کی تلاش کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پشاور میں بڑھتے ہوئے جرائم اور امن و امان کی صورتحال پر شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عوام نے حکومت اور متعلقہ حکام، خصوصاً صوبائی وزیر سہیل آفریدی اور آئی جی خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کے ذمہ داران کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر اصف ملک خیبر پختونخوا میں کڈنی ٹرانسپلانٹ کے شعبے کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں اور طب کے میدان میں ان کی خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس واقعے نے طبی برادری اور شہری حلقوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے۔
