ضلع خیبر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور وادی تیراہ میں بدامنی کے بڑھتے واقعات کے خلاف منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی، سماجی اور قبائلی رہنماؤں نے متاثرینِ تیراہ کی باعزت واپسی اور علاقے میں امن کے قیام کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) سے ظاہر شاہ آفریدی، جمعیت علمائے اسلام سے سید کبیر آفریدی، جماعت اسلامی سے خان ولی آفریدی، پاکستان عوامی انقلابی لیگ سے ملک عطاءاللہ خان، پاکستان پیپلز پارٹی سے ڈاکٹر شیر شاہ آفریدی، پی ٹی ایم سے آفتاب شینواری، متاثرین تیراہ سے صحبت آفریدی، خدمتِ خلق کمیٹی سپاہ سے مقبلی خان، زوان اکاخیل اتحاد سے عجب خان، معروف کاروان سے اصغر خان، تیراہ تاجر یونین سے شیر افگن اور خیبر یونین سے ہاشم آفریدی نے اپنے وفود کے ہمراہ شرکت کی۔
اس کے علاوہ سابق پارلیمنٹیرینز ناصر خان آفریدی، سنا گل آفریدی، سماجی شخصیت گل غفور، معروف قانوندان ایڈووکیٹ دانش آفریدی اور دیگر سیاسی و سماجی شخصیات بھی کانفرنس میں شریک ہوئیں۔
کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ ضلع خیبر میں مجموعی طور پر امن و امان کی خراب صورتحال، تیراہ کے متاثرین کی جبری بے دخلی اور انہیں درپیش مشکلات کی ذمہ داری وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم جبری انخلاء کے بعد بنیادی ذمہ داری صوبائی حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرے۔
اعلامیے کے مطابق حکومت نے تیراہ متاثرین کی واپسی اپریل میں کرانے کا وعدہ کیا تھا، اس لیے حکومت فوری طور پر علاقے میں امن و امان بحال کرکے متاثرین کی واپسی کے لیے واضح اور قابلِ عمل منصوبہ پیش کرے۔ ساتھ ہی مستقبل میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جامع حکمت عملی بھی سامنے لائی جائے۔
کانفرنس کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ راجگال، سنڈا پال، درے نغری، باغ حرم، خاپور اور سرغر کے متاثرین کی باعزت واپسی یقینی بنائی جائے اور ان کے ساتھ کیے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔
اعلامیے میں متاثرینِ تیراہ کی رجسٹریشن میں سیاسی مداخلت، اقربا پروری اور مبینہ کرپشن کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ امدادی رقم کی تقسیم میں سست روی اور بدانتظامی قابلِ قبول نہیں اور گزشتہ تین ماہ سے واجب الادا 50 ہزار روپے ماہانہ امداد فوری طور پر جاری کی جائے۔
کانفرنس میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ موجودہ حالات میں نہ صرف شہریوں کے گھر مسمار ہو رہے ہیں بلکہ عام شہری شہید بھی ہو رہے ہیں۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سویلین شہداء کے لیے بھی سرکاری اہلکاروں کی طرز پر خصوصی شہداء پیکج متعارف کرایا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ تیراہ میں گھر یا جائیداد رکھنے والے تمام رہائشیوں کو آئی ڈی پیز کا درجہ دے کر سابقہ اعداد و شمار کے مطابق مکمل رجسٹریشن اور امدادی پیکیج میں شامل کیا جائے، کیونکہ متاثرہ خاندانوں کی تعداد 70 ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ تیراہ کے جنگلات کی غیر قانونی کٹائی اور اراضی پر قبضوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ کانفرنس کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو حالات ماضی کی طرح سنگین ہو سکتے ہیں۔
اعلامیے میں اپر باڑہ اور باڑہ پلین ایریا میں بڑھتے جرائم، اغوا برائے تاوان اور دھمکی آمیز واقعات پر فوری کنٹرول کے لیے ہنگامی اقدامات کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ سابقہ قبائلی اضلاع میں بدامنی کے مسلسل واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہاں حکومتی رٹ کمزور ہو چکی ہے، اس لیے حکومت فوری طور پر ان علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
مزید کہا گیا کہ 2018 کے انضمام کے بعد ضلع خیبر خصوصاً وادی تیراہ میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور وفاقی سطح پر نیب یا دیگر تحقیقاتی اداروں کے ذریعے تمام فنڈز کے استعمال کا آڈٹ کیا جائے۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے نام پر تیراہ متاثرین کی واپسی سے توجہ ہٹانا قابلِ قبول نہیں۔ متاثرین کی محفوظ، باعزت اور بروقت واپسی کو ترجیح دی جائے تاکہ وہ اپنی فصلوں سے بروقت فائدہ اٹھا سکیں۔
کانفرنس کے شرکاء نے خبردار کیا کہ اگر ان مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو ضلع خیبر کی تمام سیاسی جماعتیں اپنی صوبائی قیادت کے ساتھ ملک گیر احتجاج کا راستہ اختیار کریں گی۔
