وادی تیراہ کے علاقوں سنڈاپال اور درے نغری کے متاثرین تین سال گزرنے کے باوجود تاحال رجسٹریشن سے محروم ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے تین سال قبل انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کی، مگر اس دوران کسی بھی سرکاری ادارے نے ان کی مدد یا رجسٹریشن کے حوالے سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا۔
متاثرین کے مطابق قوم سپاہ سے متاثرہ خاندانوں کی مکمل تفصیلات ضلعی انتظامیہ، ممبر صوبائی اسمبلی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا تک پہنچائی جا چکی ہیں، تاہم اب تک رجسٹریشن کا عمل شروع نہیں کیا جا سکا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر رجسٹریشن نہ ہوئی تو متاثرین ایک بار پھر پی ڈی ایم کے تحت ہر قسم کی مالی امداد سے محروم رہ جائیں گے۔
متاثرین نے وادی تیراہ کی 24 رکنی کمیٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کمیٹی نے آج تک کسی سرکاری اجلاس یا ملاقات میں ان کے اندراج یا حقوق کے لیے مؤثر آواز نہیں اٹھائی۔
اس موقع پر وادی تیراہ سنڈاپال اور درے نغری کے مشران اور متاثرین نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، سینیٹر حاجی مرزا محمد آفریدی، ایم پی اے و ڈیڈک چیئرمین عبدالغنی آفریدی اور ڈپٹی کمشنر خیبر سے مطالبہ کیا کہ ان علاقوں کے متاثرین کی رجسٹریشن کے لیے فوری احکامات جاری کیے جائیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو سرکاری امداد اور سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
