جمرود پریس کلب میں فاٹا لویہ جرگہ کے زیر اہتمام ایک اہم اور پرہجوم پریس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں قبائلی مشران ملک خان مرجان وزیر، ملک بسم اللہ خان، اعظم خان محسود، ملک فضل الرحمان، ملک عبدالرزاق، ملک طہماش، ملکزادہ فضل کریم سمیت دیگر قبائلی عمائدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاک افغان کشیدگی، بارڈر بندش، بے روزگاری، فاٹا انضمام اور دیگر اہم علاقائی مسائل پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جرگہ رہنماؤں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری تین روزہ جنگ بندی کو عیدالاضحیٰ تک توسیع دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے جنگ بندی کا تسلسل ناگزیر ہے، کیونکہ موجودہ کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان عام قبائلی عوام کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
قبائلی مشران نے پاک-افغان سرحد کی بندش کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث نہ صرف سرحدی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے بلکہ بے روزگاری اور غربت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاک-افغان سرحد کو فوری طور پر کھولا جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں اور مقامی افراد کو روزگار کے مواقع میسر آ سکیں۔
پریس کانفرنس کے دوران افغان مہاجرین کی واپسی کے طریقہ کار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ جرگہ اراکین کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو غیر مناسب اور غیر انسانی انداز میں واپس بھیجنا دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے، لہٰذا اس عمل کو باوقار اور انسانی بنیادوں پر انجام دیا جائے۔
فاٹا انضمام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مشران نے کہا کہ پچیسویں آئینی ترمیم کے تحت کیے گئے وعدوں پر تاحال مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ میں زیر التوا کیس کو فوری سماعت کے لیے مقرر کیا جائے، بصورت دیگر معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھانے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی عوام کے حقوق متاثر ہوئے ہیں اور جرگہ نظام کا خاتمہ ناانصافی کے مترادف ہے۔
جرگہ رہنماؤں نے واضح کیا کہ قبائلی عوام جنگ کے نہیں بلکہ امن کے داعی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تمام راستے کھولنے سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا بلکہ نوجوان بھی منفی سرگرمیوں کے بجائے مثبت سمت اختیار کریں گے۔
اس موقع پر ملک بسم اللہ جان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائل افغانستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے کیونکہ دونوں اطراف کے لوگ مشترکہ ثقافت، روایات اور خاندانی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ سے جاری کشیدگی کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا کے انضمام کے بعد قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں بھی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آ رہی۔ انہوں نے وادی تیراہ میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
پریس کانفرنس میں وادی تیراہ، ضلع اورکزئی اور دیگر قبائلی علاقوں کو درپیش مسائل بھی اجاگر کیے گئے اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ان مسائل کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ سے اپیل کی گئی کہ وہ احتجاجی سیاست کے بجائے خطے میں امن کے قیام کے لیے عملی اور مؤثر کردار ادا کریں۔
فاٹا لویہ جرگہ نے خود کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے لیے پیش کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عوام ہمیشہ سے جرگہ نظام کے ذریعے تنازعات کے حل کے حامی رہے ہیں اور آئندہ بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
پریس کانفرنس کے اختتام پر قبائلی مشران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قبائلی عوام پاکستان کے وفادار ہیں اور ملک کی سلامتی کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ موجودہ پالیسیوں پر نظرثانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
