سحر ویلفئیر فاؤنڈیشن کے تعاون سے مومند ادبی ٹولنہ نے جوان مرکز غلنئی میں ایک ادبی پروگرام کا انعقاد کیا، جس میں دو اہم کتب کی باوقار رونمائی عمل میں آئی: ریاض تسنیم کی کتاب "ریاض تسنیم کلیات" اور غزل مومند کی کتاب "لونگ پاشمہ"۔ تقریب میں خیبر پختونخوا کے نامور شعراء اور ادیبوں نے شرکت کی۔

مہمانانِ خصوصی میں ڈاکٹر حنیف خلیل، روخان یوسفزئی، اقبال کوثر، طیب اللہ خان، جہانزیب مومند، شہاب عزیز الرحمان، محب وزیر شامل تھے، جبکہ صدارت کے فرائض روخان یوسفزئی نے انجام دیے اور نظامت محب علی محب و شازل مومند نے کی۔ پروگرام کو تین حصوں میں پہلا حصہ کتب کی رونمائی، دوسرا مشاعرہ، اور تیسرا حصہ موسیقی پروگرام پر مشتمل تھا

کتاب "ریاض تسنیم کلیات" پر گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر محب وزیر نے مرحوم ریاض تسنیم کی ادبی عظمت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ وہ صرف شاعر نہیں بلکہ گہری مطالعہ رکھنے والے نقاد بھی تھے جنہوں نے اردو، انگریزی اور فارسی ادب پر گہری نظر رکھی۔

اسی طرح غزل مومند کی کتاب "لونگ پاشمہ" پر ڈاکٹر حنیف خلیل نے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اسے ریاض تسنیم کے فکری اثرات کا تسلسل قرار دیا۔ ان کے مطابق غزل مومند کی شاعری میں تسنیم کے رنگ نمایاں ہیں جو مستقبل میں مزید نکھر کر سامنے آئیں گے۔

شہاب عزیز الرحمان نے دونوں کتب پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریاض تسنیم ایک منفرد لہجے کے شاعر تھے جنہوں نے الفاظ اور تراکیب جیسے "ملنگہ"، "سباروبا" اور "پریزادہ" کو شاعری میں شامل کر کے نیا اسلوب متعارف کروایا۔

صدر محفل روخان یوسفزئی نے دونوں کتابوں پر تفصیلی بحث کی اور ان کے ادبی مقام و فنی انفرادیت کو اجاگر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کتب نہ صرف مقامی بلکہ عالمی ادب میں بھی اہمیت رکھتی ہیں اور اردو و پشتو ادب کی نئی نسل کے لیے رہنمائی فراہم کریں گی۔

تقریب میں ڈپٹی کمشنر مہمند یاسر حسن نے بھی شرکت کی اور اس طرح کی ادبی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے یقین دلایا کہ ضلعی انتظامیہ علم و ادب کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھے گی۔

آخر میں سحر ویلفئیر فاؤنڈیشن کے چیئرمین حمید اللہ مومند نے مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور عزم کیا کہ ایسے ادبی پروگرامز کا سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا تاکہ نوجوان نسل ادب سے جڑ سکے۔