عالمی یومِ تپ دق (ٹی بی) 2026 کے موقع پر ماہرین صحت اور شراکت دار اداروں نے اس مہلک مگر قابلِ علاج متعدی بیماری کے خاتمے کے لیے فوری، مربوط اور پائیدار اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بدنامی (اسٹگما)، مالی وسائل کی کمی اور صحت کے نظام کو درپیش چیلنجز اب بھی اس مرض کے خاتمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 2024 میں دنیا بھر میں تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ افراد ٹی بی کا شکار ہوئے جبکہ 12 لاکھ 30 ہزار افراد اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ یہ بیماری متاثرہ فرد کے کھانسنے، چھینکنے یا بات کرنے سے فضا میں پھیلتی ہے۔ اگرچہ ٹی بی بنیادی طور پر پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے تاہم یہ دماغ، گردوں اور ریڑھ کی ہڈی سمیت جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر ٹی بی کے مریضوں میں 54 فیصد مرد، 35 فیصد خواتین اور 11 فیصد بچے شامل ہیں۔
پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ٹی بی کا بوجھ انتہائی زیادہ ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 6 لاکھ 70 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں جو عالمی بوجھ کا تقریباً 6.3 فیصد ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں کے باوجود پاکستان جیسے زیادہ متاثرہ ممالک میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔
پاکستان میں ٹی بی کے خلاف اقدامات کو سرکاری و نجی شعبوں کے باہمی تعاون سے تقویت ملی ہے۔ مرسی کور پاکستان نے نیشنل ٹی بی کنٹرول پروگرام اور صوبائی ٹی بی پروگرامز کے اشتراک سے، گلوبل فنڈ کے تعاون کے تحت پبلک پرائیویٹ مکس ماڈلز کے ذریعے ٹی بی خدمات تک رسائی کو وسعت دی ہے، جس کے نتیجے میں خصوصاً پسماندہ علاقوں میں لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔
مرسی کور پاکستان کے کنٹری ڈائریکٹر عارف جبار خان کا کہنا ہے کہ تپ دق کے خاتمے کے لیے صرف طبی علاج کافی نہیں بلکہ عوامی آگاہی میں اضافہ اور صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق سرکاری و نجی شراکت داری کے نتیجے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے تاہم بدنامی اور غلط فہمیاں اب بھی مریضوں کو بروقت علاج سے دور رکھتی ہیں جس سے بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمیونٹی سطح پر آگاہی کو مزید مؤثر بنانا، احتیاطی علاج کو فروغ دینا اور بچوں سمیت تمام افراد کے لیے بلا تعطل صحت خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق آگاہی میں اضافہ، سپلائی چین کی مضبوطی اور پائیدار صحت نظام میں سرمایہ کاری ٹی بی سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔
عمل درآمد کرنے والے شراکت دار اداروں کے سربراہان، جن میں ایس پی او کی عارفہ مظہر، ایسوسی ایشن فار کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے ڈاکٹر اکمل نوید، ایسوسی ایشن فار سوشل ڈیولپمنٹ کے ڈاکٹر محمد عامر خان، برج کنسلٹنٹس فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر سید شرف علی شاہ، گرین اسٹار سوشل مارکیٹنگ کے ڈاکٹر ایم خالد فاروق اور میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کے مروِن لوبو شامل ہیں، نے بھی کمیونٹی سطح پر اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ ٹی بی صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی چیلنج بھی ہے جو غربت، بدنامی اور آگاہی کی کمی سے جڑا ہوا ہے۔ خوف اور غلط فہمیوں کے باعث بہت سے مریض علاج میں تاخیر کرتے ہیں جس سے بیماری کے پھیلاؤ اور پیچیدگیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان میں ٹی بی کے خاتمے کے لیے مسلسل سیاسی عزم، مقامی سرمایہ کاری میں اضافہ اور صحت کے نظام کی مضبوطی ضروری ہے۔ احتیاطی علاج کے دائرہ کار کو وسیع کرنا، ادویات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا اور عوامی آگاہی کو ترجیح دینا اس سلسلے میں اہم اقدامات ہیں۔
عالمی یومِ تپ دق کے موقع پر متعلقہ فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ٹی بی کا خاتمہ ممکن ہے تاہم اس کے لیے حکومت، شراکت داروں اور کمیونٹیز کی مشترکہ اور مسلسل کوششیں ناگزیر ہیں۔
