پاکستان ایک ایسے صحت کے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے جس پر فوری اور سنجیدہ توجہ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ملک میں اس وقت تقریباً دو کروڑ بچے عمر کے لحاظ سے زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، اور اندازہ ہے کہ 2040 تک اس تعداد میں مزید 50 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے جو ہماری آنے والی نسلوں کی صحت، تعلیم اور مجموعی صلاحیت کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
بچوں میں موٹاپا اب صرف شہری علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ دیہی علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ فاسٹ فوڈ کا بڑھتا ہوا استعمال، میٹھے مشروبات، غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور اسکرین ٹائم میں اضافہ اس رجحان کے بڑے اسباب ہیں۔ اگر اس صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو مستقبل میں ذیابیطس، دل کے امراض اور دیگر غیر متعدی بیماریوں کا بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔
والدین بچوں کی عادات و اطوار کے سب سے بڑے معمار ہوتے ہیں۔ صحت مند غذا کا انتخاب، گھریلو کھانے کو ترجیح دینا اور بچوں کو جسمانی سرگرمیوں میں شامل کرنا والدین کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کم عمری سے ہی بچوں کو متوازن خوراک اور فعال طرزِ زندگی کی عادت ڈالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسکرین ٹائم کو محدود کرنا اور بچوں کو کھیلوں کی طرف راغب کرنا بھی نہایت ضروری ہے۔
کمیونٹی کی سطح پر بھی اس مسئلے کے حل کے لیے مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ کھیل کے میدانوں کی دستیابی، محفوظ ماحول اور صحت سے متعلق آگاہی مہمات اس ضمن میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ مساجد، تعلیمی ادارے اور مقامی تنظیمیں اس پیغام کو عام کرنے کے لیے مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف نصاب میں صحت و غذائیت کے موضوعات شامل کریں بلکہ عملی اقدامات بھی کریں۔ اسکول کینٹینز میں غیر صحت بخش اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے اور صحت مند متبادل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اس حوالے سے صحت کے ماہرین اور غیر سرکاری تنظیمیں تربیت، رہنمائی اور مؤثر نگرانی کے نظام کو مضبوط بنا سکتی ہیں۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر قومی ایجنڈے کا حصہ بنانا ہوگا۔ میٹھے مشروبات اور جنک فوڈ پر مؤثر پالیسی سازی، اشتہارات پر ضابطہ کاری اور صحت مند خوراک کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے انفراسٹرکچر کی بہتری، عوامی مقامات پر جسمانی سرگرمیوں کے مواقع اور قومی سطح پر آگاہی مہمات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔
یہ مسئلہ بظاہر خاموش ہے مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنے بچوں کی صحت کو ترجیح نہ دی تو کل ہمیں ایک کمزور، بیمار اور غیر فعال نسل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم انفرادی، سماجی اور حکومتی سطح پر فوری، مؤثر اور پائیدار اقدامات کریں، کیونکہ صحت مند بچے ہی ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔
