یونیورسٹی آف ہری پور میں سال 2024 کے دوران ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے تحت اسکالرشپس کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے، جس پر تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جامعہ کے شعبہ قانون کی جانب سے جاری ایک تحریری مراسلے میں اسکالرشپس کی تقسیم کے طریقہ کار پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ یونیورسٹی کے لا آفیسر اور سربراہ شعبہ قانون، ساجد محمود نے وائس چانسلر کو ارسال کردہ شکایتی خط میں مؤقف اختیار کیا کہ انتخابی عمل میں میرٹ اور مالی طور پر مستحق طلبہ کو نظر انداز کیا گیا۔
خط میں کہا گیا ہے کہ زیادہ جی پی اے اور شدید مالی مشکلات کے حامل طلبہ کو اسکالرشپس سے محروم رکھا گیا، جبکہ نسبتاً کم میرٹ رکھنے والے طلبہ کو نوازا گیا۔
اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے وائس چانسلر کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی، جس کی سربراہی ڈین سوشل اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنسز نے کی، جبکہ ڈپٹی رجسٹرار (میٹنگز) کو سیکرٹری مقرر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کر لی تھیں اور ادارہ جاتی اسکالرشپ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عزیز اللہ کے خلاف کارروائی کی سفارش بھی زیر غور تھی۔
تاہم، اطلاعات کے مطابق یہ انکوائری قبل از وقت ختم کر دی گئی اور اس کی تفصیلات یا باضابطہ منٹس جاری نہیں کیے گئے۔ بعد ازاں ایک نئی کمیٹی، ڈین آئی ٹی اینڈ نیچرل سائنسز کی سربراہی میں تشکیل دی گئی، جس نے معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا۔
تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ اسکالرشپس ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نیڈ بیسڈ پروگرام کے تحت فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے ان میں شفافیت، انصاف اور میرٹ کی سختی سے پابندی ضروری ہے۔ ماہرین اور طلبہ کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقی مستحقین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
