حسن خیل سب ڈویژن کے علاقے بوڑہ میں گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکولوں میں مڈل سیکشن کی عدم فراہمی کے باعث درجنوں طالبات کو تعلیم جاری رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بیس سال کے طویل انتظار کے بعد اگرچہ دو گورنمنٹ گرلز پرائمری اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کی گئیں، تاہم تاحال ان میں مڈل سیکشن شروع نہیں کیا جا سکا۔
مقامی ذرائع کے مطابق عجب خان اسکول علی خیل اور جنت خان اسکول ماول خیل کی عمارتیں مکمل ہونے کے باوجود ان اسکولوں کو مڈل درجہ تک اپ گریڈ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً پرائمری تعلیم مکمل کرنے کے بعد علاقے کی متعدد بچیاں مزید تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتی ہیں۔
علاقہ مکینوں کے مطابق جو طالبات اپنی تعلیم جاری رکھنا چاہتی ہیں انہیں روزانہ تقریباً ایک گھنٹہ پیدل چل کر حسن خیل جانا پڑتا ہے۔ خستہ حال راستوں، نامناسب سفری سہولیات اور سیکیورٹی خدشات کے باعث والدین اپنی کم عمر بچیوں کو دور بھیجنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں کئی طالبات مجبوراﹰ تعلیم ترک کر دیتی ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال نہ صرف علاقے کی تعلیمی پسماندگی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ بچیوں کے بنیادی حقِ تعلیم پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ ان کے مطابق اگر مقامی سطح پر مڈل سیکشن قائم کر دیا جائے تو درجنوں بچیاں اپنی تعلیم باآسانی جاری رکھ سکتی ہیں۔
علاقہ مکینوں نے منتخب نمائندوں کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کے دوران ترقی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے وعدے کیے گئے تھے، مگر پانچ سال گزرنے کے باوجود علاقے میں خاطر خواہ ترقیاتی کام نظر نہیں آتے۔ نہ سڑکوں کی مناسب تعمیر کی گئی ہے، نہ خواتین کے لیے کوئی فلاحی مرکز قائم کیا گیا ہے اور نہ ہی موجودہ اسکولوں کو مڈل درجہ تک اپ گریڈ کیا گیا ہے۔
مقامی افراد کے مطابق ایک منتخب نمائندہ پشاور اور دوسرا اسلام آباد میں موجود ہے، مگر ان کے حلقے میں عوام کو درپیش بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ نمائندگی کا مقصد صرف ایوانوں میں موجودگی نہیں بلکہ عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات بھی ہونا چاہیے۔
علاقہ مکینوں نے حکومت اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ بوڑہ کے موجودہ گرلز اسکولوں کو فوری طور پر مڈل درجہ تک اپ گریڈ کیا جائے، ضروری اساتذہ تعینات کیے جائیں اور تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بچیوں کو تعلیم کے حصول کے لیے طویل اور مشکل سفر نہ کرنا پڑے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ علاقے کی بچیوں کے مستقبل کو مزید متاثر کر سکتا ہے۔
