پاکستان میں گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق مقامی معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں، کرنسی کی قدر، علاقائی کشیدگی اور جنگیں بھی پٹرول کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔
دستیاب اوسط سالانہ تخمینوں کے مطابق 2008 میں پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 67 روپے فی لیٹر تھی، جو وقت کے ساتھ بڑھتے ہوئے 2026 میں تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
2008 سے 2011 تک وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 65 سے 80 روپے فی لیٹر کے درمیان رہی۔ 2012 میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے دور میں قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا اور اوسط قیمت تقریباً 108 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
2013 میں نواز شریف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ابتدائی سال میں قیمت تقریباً 110 روپے رہی، تاہم 2014 سے 2016 کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی اور اوسط قیمت تقریباً 75 روپے فی لیٹر تک آ گئی۔ 2017 میں شاہد خاقان عباسی کے دور میں اوسط قیمت تقریباً 69 روپے فی لیٹر رہی۔
2018 میں عمران خان کی حکومت کے آغاز پر پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 81 روپے تھی۔ بعد ازاں 2019 سے 2021 کے دوران عالمی معاشی دباؤ اور توانائی کی منڈی میں تبدیلیوں کے باعث قیمتیں بتدریج بڑھتی گئیں اور 2021 تک اوسط قیمت تقریباً 120 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے بعد عالمی توانائی کی منڈی شدید متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کے اثرات پاکستان پر بھی پڑے اور اسی سال پٹرول کی اوسط قیمت تقریباً 150 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
اس کے بعد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور 2026 میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی توانائی کی سپلائی کو مزید متاثر کیا۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران میں حملوں اور ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں تیل کی ترسیل اور بحری راستوں پر خطرات بڑھ گئے ہیں، جس سے عالمی تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
اسی تناظر میں شہباز شریف کی حکومت کے بعد پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا۔ 2023 میں اوسط قیمت تقریباً 267 روپے فی لیٹر رہی، 2024 میں تقریباً 281 روپے تک پہنچ گئی، 2025 میں معمولی کمی کے بعد تقریباً 269 روپے فی لیٹر رہی جبکہ 2026 میں یہ دوبارہ بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر عالمی سطح پر جنگیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل کی منڈی اور پاکستان سمیت کئی ممالک میں پٹرول کی قیمتوں پر پڑتے رہیں گے۔
