ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں گزشتہ دس دنوں سے درجنوں افغان مہاجر خاندان غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور شدید جھڑپوں کے باعث طورخم سرحد بند ہے، جس کے سبب وہ افغان شہری جو اپنے وطن واپس جانا چاہتے تھے راستے ہی میں رک گئے ہیں۔

ان بے سہارا خاندانوں کے ہجوم میں ایک ننھی سی زندگی نے بھی آنکھ کھولی ہے، جو جنگ، بند سرحدوں اور سخت حالات کے درمیان امید کی ایک نئی علامت بن گئی ہے۔

جمرود بائی پاس کے قریب کھلے آسمان تلے، سامان سے لدے ٹرکوں اور عارضی ٹھکانوں کے درمیان ایک افغان خاتون نے بیٹے کو جنم دیا۔ یہ خاتون اپنے خاندان کے ہمراہ افغانستان واپس جا رہی تھیں، مگر سرحد بند ہونے کے باعث دیگر مہاجرین کے ساتھ جمرود میں ہی رک گئیں۔ نہ مناسب رہائش، نہ طبی سہولیات اور نہ ہی بنیادی ضروریات ان ہی کٹھن حالات میں انہیں زچگی کے مراحل سے گزرنا پڑا۔

مقامی سماجی کارکن اسلام بادشاہ کے مطابق جب خاتون کو زچگی کا وقت آیا تو مقامی افراد اور رضاکار فوری طور پر مدد کے لیے آگے بڑھے۔ دستیاب وسائل کے مطابق ماں اور نومولود کے لیے ممکنہ سہولیات فراہم کی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشکل حالات کے باوجود کوشش کی گئی کہ بچے کی پیدائش محفوظ طریقے سے ہو اور ماں کو ضروری دیکھ بھال بھی فراہم کی جائے۔

بچے کی پیدائش کے بعد مقامی لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ آس پاس کے علاقوں سے لوگ آ کر افغان مہاجر خاندان کو مبارکباد دے رہے ہیں۔ بعض افراد نومولود کے لیے کپڑے، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء بھی بطور تحفہ لا رہے ہیں۔

اس غیر معمولی صورتحال میں پیدا ہونے والے اس بچے نے وہاں موجود مہاجر خاندانوں کے دلوں میں ایک نئی امید جگا دی ہے۔ مقامی رضاکاروں اور شہریوں نے نومولود کا نام “خیبر” رکھا ہے، جو اس سرزمین کی علامت ہے جہاں اس نے آنکھ کھولی۔

نومولود کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے وطن افغانستان واپس جانا چاہتی تھیں، مگر حالات نے انہیں راستے ہی میں روک دیا۔ ان کے مطابق وہ گزشتہ کئی دنوں سے کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جہاں نہ مناسب خوراک دستیاب ہے اور نہ ہی خواتین اور بچوں کے لیے بنیادی سہولیات موجود ہیں۔

دوسری جانب سماجی کارکن اسلام بادشاہ اپنی مدد آپ کے تحت روزانہ یہاں پھنسے افغان خاندانوں کے لیے افطاری اور سحری کا بندوبست کر رہے ہیں۔ وہ مقامی لوگوں کے تعاون سے درجنوں خاندانوں تک کھانا پہنچا رہے ہیں تاکہ روزہ دار مہاجرین کم از کم اس مقدس مہینے میں بھوک کا شکار نہ ہوں۔

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سرحد بند ہونے کے باعث خواتین، بچوں اور بزرگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، تاہم ایسے مشکل وقت میں مقامی لوگوں کی مدد اور یکجہتی متاثرہ خاندانوں کے لیے سہارا بنی ہوئی ہے۔