خیبر پختونخوا کے ضلع صوابی کی پُرسکون وادی میں قائم غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (جی آئی کے) کو پاکستان کے ممتاز تعلیمی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے باصلاحیت طلبہ اپنے خوابوں اور روشن مستقبل کی امید لے کر اس ادارے کا رخ کرتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اس یقین کے ساتھ یہاں بھیجتے ہیں کہ انہیں اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ایک محفوظ اور ذمہ دار تعلیمی ماحول بھی میسر ہوگا۔

مگر حالیہ سانحہ اس یقین پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔

گزشتہ دنوں اس ادارے کے ایک رہائشی کمرے سے اوّل سال کے طالب علم روسلان کی لاش برآمد ہوئی، جن کا تعلق ضلع مردان سے تھا۔ روسلان ایک معزز صحافتی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ مردان پریس کلب کے سابق نائب صدر اور سینئر صحافی، جو ماضی میں وائس آف امریکہ سے وابستہ رہے، کے صاحبزادے تھے۔ ایک ہونہار طالب علم کی اچانک اور پراسرار موت نے نہ صرف تعلیمی ادارے بلکہ پورے علاقے کو سوگوار کر دیا۔

مرحوم کو ان کے آبائی گاؤں لوند خوڑ میں سینکڑوں اشک بار آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کیا گیا۔ نمازِ جنازہ میں علاقے کے معززین، رشتہ داروں، صحافی برادری اور مقامی افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر زبان پر یہی سوال تھا کہ آخر ایک نوجوان طالب علم کی جان اس طرح کیوں چلی گئی؟

ادھر ادارے میں طالب علم کی موت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے طلبہ کی بڑی تعداد ادارے کے مرکزی دروازے پر جمع ہو گئی۔ غم اور غصے سے بھرے طلبہ نے احتجاج کرتے ہوئے قریبی شاہراہ کو آمدورفت کے لیے بند کر دیا اور انصاف کے لیے آواز بلند کی۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر ایسی غفلت کا نتیجہ ہے جس نے ایک قیمتی جان لے لی۔ طلبہ کے مطابق اگر بروقت مریض بردار گاڑی فراہم کی جاتی تو شاید ان کے ساتھی کی جان بچ سکتی تھی۔ ان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ اگر ادارے کے شفاخانے میں مصنوعی تنفس کی مشین اور دیگر بنیادی ہنگامی طبی سہولیات موجود ہوتیں تو شاید آج ان کا دوست ان کے درمیان موجود ہوتا۔

یہ سوال اپنی جگہ نہایت اہم ہے کہ ملک کے ایک نامور تعلیمی ادارے میں، جہاں ملک کے ذہین ترین طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور جہاں بھاری فیسیں بھی وصول کی جاتی ہیں، وہاں ہنگامی طبی سہولیات کیوں ناکافی ہیں؟ کیا ہمارے تعلیمی ادارے صرف تعلیمی درجہ بندی اور جدید عمارتوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں یا طلبہ کی جان اور سلامتی بھی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے؟

یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کے بیشتر تعلیمی اداروں میں طلبہ کی جسمانی صحت، ذہنی دباؤ اور ہنگامی طبی نظام کو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جس کے وہ مستحق ہیں۔ بظاہر جدید عمارتیں اور اعلیٰ تعلیمی معیار اپنی جگہ، مگر اگر کسی ہنگامی صورتحال میں طلبہ کو فوری طبی امداد بھی میسر نہ ہو تو ایسے اداروں کی ساکھ پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

اسی پس منظر میں طلبہ نے اس واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ادارے میں ایک بااختیار طلبہ انجمن کے قیام کا مطالبہ بھی کیا ہے تاکہ طلبہ کے مسائل اور خدشات بروقت انتظامیہ تک پہنچ سکیں۔ احتجاجی طلبہ نے رہائشی عمارت کے نگران، طلبہ امور کے ذمہ داران اور دیگر متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور واقعے کی مکمل تحقیقات نہیں ہوتیں، احتجاج جاری رہے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ صرف ایک طالب علم یا ایک خاندان کا دکھ نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ تعلیمی ادارے صرف اسناد دینے کی جگہیں نہیں ہوتے بلکہ وہ نوجوان نسل کی زندگیوں کے امین بھی ہوتے ہیں۔

روسلان اب اس دنیا میں نہیں رہے، مگر ان کی خاموش موت ہمارے نظام سے ایک بنیادی سوال ضرور پوچھ رہی ہے:
کیا ہمارے تعلیمی ادارے واقعی اپنے طلبہ کے لیے محفوظ ہیں؟

اگر اس سوال کا جواب آج تلاش نہ کیا گیا اور اس سانحے سے سبق نہ سیکھا گیا تو خدشہ ہے کہ کل کسی اور رہائشی کمرے سے بھی ایسی ہی ایک خاموش خبر نکلے گی اور پھر چند دن کے شور کے بعد سب کچھ معمول پر آ جائے گا۔

ایک مہذب اور ذمہ دار معاشرہ وہی ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں کی جان کو سب سے قیمتی سمجھے۔ اگر روسلان کی موت ہمارے تعلیمی اداروں میں احتساب، اصلاح اور بہتر طبی سہولیات کے قیام کا سبب بن جائے تو شاید یہ سانحہ ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ورنہ تاریخ گواہ ہے کہ جب ادارے اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں تو سانحات خبر بن کر آتے ہیں اور خاموشی سے گزر جاتے ہیں۔