خیبر کے علاقے علی مسجد چورا میں پولیس اور مبینہ اسمگلروں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پولیس کانسٹیبل حضرت حسین شہید ہوگئے۔

پولیس کے مطابق واقعہ تھانہ علی مسجد کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب پولیس مشتبہ منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی کر رہی تھی۔ اس دوران ملزمان کی جانب سے فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں کانسٹیبل حضرت حسین شدید زخمی ہوگئے۔ زخمی اہلکار کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے۔

دور افتادہ پہاڑی علاقے چوارہ میں منشیات اسمگلروں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے کانسٹیبل حضرت حسین کی نماز جنازہ پولیس لائن خیبر شاکس میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

نماز جنازہ میں سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد، ڈی پی او خیبر وقار احمد، ایس پی باڑہ سرکل، پاک فوج کے افسران، ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر، سرکل افسران، شہید کے لواحقین اور پولیس افسران و اہلکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی جبکہ اعلیٰ پولیس افسران نے شہید کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادریں چڑھائیں اور ان کے بلند درجات کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

سی سی پی او پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد نے شہید کانسٹیبل حضرت حسین کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حضرت حسین ایک نڈر، فرض شناس اور بہادر پولیس اہلکار تھے جنہوں نے منشیات اسمگلروں کے خلاف کارروائی کے دوران جرات و بہادری کی مثال قائم کرتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید کی یہ عظیم قربانی خیبر پولیس کے لیے باعث فخر ہے اور ان کی قربانی ہرگز رائیگاں نہیں جائے گی۔ ملوث منشیات اسمگلروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

سی سی پی او کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پولیس شہید کے خاندان کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑی رہے گی اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔