رنگ روڈ پر محب بانڈہ چیک پوسٹ کے قریب ایک لاوارث نومولود بچی زندہ حالت میں ملنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بچی کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی میڈیکل ٹیم موقع پر پہنچ گئی، جہاں ایک نومولود بچی سڑک کے کنارے لاوارث حالت میں پڑی ہوئی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی نامعلوم شخص نے بچی کو وہاں چھوڑ دیا تھا۔
ریسکیو اہلکاروں نے بچی کو اپنی تحویل میں لے کر فوری ابتدائی طبی امداد فراہم کی اور مزید طبی معائنے اور نگہداشت کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) منتقل کر دیا۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچی کی حالت تسلی بخش ہے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کی بنیادی ذمہ داری ایمرجنسی صورتحال میں فوری امداد فراہم کرنا اور متاثرہ افراد کو ہسپتال منتقل کرنا ہے، جبکہ نومولود بچوں کی کفالت، سرپرستی اور قانونی تحویل سے متعلق معاملات ریسکیو 1122 کے دائرہ اختیار میں شامل نہیں۔
ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا میں اس نوعیت کے کیسز میں قانونی اور سماجی تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر کمیشن کی ہوتی ہے، جو خیبر پختونخوا چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر ایکٹ کے تحت قائم ادارہ ہے۔ یہ کمیشن لاوارث، بے سہارا یا خطرے سے دوچار بچوں کو ریاستی تحویل میں لے کر ان کی نگہداشت، بحالی اور قانونی سرپرستی کے انتظامات کرتا ہے۔
قانون کے مطابق کسی بھی لاوارث یا خطرے میں موجود بچے کی اطلاع ملنے پر کیس کو ضلعی چائلڈ پروٹیکشن یونٹ کے ذریعے رجسٹر کیا جاتا ہے۔ بعد ازاں بچے کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے شیلٹر ہوم یا کسی مستند ادارے میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد بچوں کی کفالت یا گود لینے کے معاملات بھی مجاز حکام کی نگرانی میں انجام دیے جاتے ہیں۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کہیں کوئی لاوارث یا خطرے میں موجود بچہ نظر آئے تو اسے غیر محفوظ جگہ پر چھوڑنے کے بجائے فوری طور پر ریسکیو 1122 یا متعلقہ چائلڈ پروٹیکشن حکام کو اطلاع دیں تاکہ بچے کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔
