پاک افغان کشیدگی کے باعث سرحدی علاقوں میں حالات انتہائی خراب ہو چکے ہیں۔ شدید گولہ باری کے نتیجے میں لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے اور متعدد خاندان ریلوے ٹنلز میں پناہ لینے پر مجبور ہیں، جہاں وہ انتہائی مشکل حالات میں بے یار و مددگار پڑے ہیں۔ مختلف علاقوں میں گھروں پر مارٹر گولے گرائے جا رہے ہیں جس کے باعث بچے اور خواتین شدید خوف و ہراس کا شکار ہیں۔ تاہم اس تمام صورتحال پر منتخب نمائندوں کی خاموشی اور سیاسی اتحاد کی عدم توجہی پر عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی کونسل ممبر فضل الرحمن آفریدی نے کہا کہ گزشتہ آٹھ دنوں سے علاقے میں مسلسل گولہ باری ہو رہی ہے اور باچامینہ کے عوام نقل مکانی کرکے ریلوے ٹنلز میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ متاثرہ افراد کو خوراک، ادویات اور رات گزارنے کے لیے بنیادی سامان کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ضلع خیبر کے ایم این اے، ممبر صوبائی اسمبلی اور سینیٹر نے اب تک متاثرہ لوگوں کا حال تک نہیں پوچھا۔ اسی طرح ڈپٹی کمشنر خیبر کو بھی شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ لنڈی کوتل میں عوام بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ دوسری طرف گھروں پر مسلسل گولے گرائے جا رہے ہیں جس کے باعث ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

فضل الرحمن آفریدی نے مزید کہا کہ اس مشکل وقت میں خیبر سیاسی اتحاد بھی خاموش بیٹھا ہے جبکہ قومی مشران پہلے ہی خود کو اس صورتحال سے الگ کر چکے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کی نظریں منتخب نمائندوں، سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور قومی مشران پر ہوتی ہیں، لیکن لنڈی کوتل اس حوالے سے مکمل طور پر محروم نظر آتا ہے اور کوئی آواز اٹھانے والا نہیں۔


واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں پاک افغان سرحدی علاقوں میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث وقفے وقفے سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔ سرحدی دیہات کے مکین خوف کے باعث محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہو رہے ہیں جبکہ متعدد خاندان عارضی طور پر ریلوے ٹنلز اور دیگر محفوظ مقامات میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر امدادی اقدامات نہ کیے گئے تو انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

فضل الرحمن آفریدی نے مطالبہ کیا کہ نقل مکانی کرنے والے افراد کے لیے فوری طور پر رہائش، خوراک اور دیگر ضروری سہولیات کا بندوبست کیا جائے، بصورت دیگر متاثرہ افراد احتجاج پر مجبور ہوں گے۔