خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے تناظر میں ای وی اے ڈبلیو جی الائنس کے پی (خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کا اتحاد خیبر پختونخوا) کے شریک چیئرز مسٹر فدا محمد اور مس فوزیہ علی نے ڈاکٹر مہوش کے بہیمانہ قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر مہوش ایک باصلاحیت اور فرض شناس طبی پیشہ ور تھیں جنہیں کوہاٹ میں ڈیوٹی کی ادائیگی کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک قیمتی جان کے ضیاع کا سبب بنا بلکہ صوبے میں خواتین پیشہ ور افراد کو درپیش سکیورٹی خدشات کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
بیان میں ڈاکٹر مہوش کے اہل خانہ، ساتھیوں اور طبی برادری سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ خواتین کے خلاف تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
الائنس نے حکومت خیبر پختونخوا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف، غیر جانبدار اور مقررہ مدت میں تحقیقات مکمل کی جائیں، ذمہ داران کو فوری گرفتار کر کے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور تحقیقات کی پیش رفت عوام کے سامنے لائی جائے۔
مزید کہا گیا کہ خواتین کے لیے محفوظ کام کے ماحول کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے جامع سکیورٹی پروٹوکولز، صنفی حساس حفاظتی اقدامات اور مؤثر تحفظاتی نظام نافذ کیے جائیں تاکہ تمام شعبوں میں کام کرنے والی خواتین بلا خوف و خطر اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
بیان کے اختتام پر کہا گیا کہ ڈاکٹر مہوش کے لیے انصاف صرف مجرموں کو سزا دلوانے تک محدود نہیں بلکہ صوبے بھر میں خواتین کے لیے پائیدار تحفظ اور سلامتی کے نظام کے قیام سے ہی ممکن ہے۔
