پاکستان میں بچوں کی صحت کے حوالے سے سامنے آنے والی حالیہ تحقیق نے ایک نہایت تشویشناک حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔ وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن اور یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق ملک کے سات بڑے شہروں کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں رہنے والے کم عمر بچوں کی بڑی تعداد کے خون میں سیسے کی خطرناک مقدار پائی گئی ہے۔ یہ مسئلہ نہ صرف صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے بلکہ ملک کے مستقبل—یعنی بچوں کی ذہنی و جسمانی نشوونما—کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔

سیسہ ایک انتہائی زہریلا دھات ہے جو انسانی جسم، خصوصاً بچوں کے لیے، شدید نقصان دہ ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ 12 سے 36 ماہ کی عمر کے بچوں میں سیسے کی موجودگی ان کی جسمانی نشوونما کو سست کر دیتی ہے، ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے اور سیکھنے کی استعداد میں نمایاں کمی کا باعث بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ خون کی کمی، کمزور مدافعتی نظام اور رویّے سے متعلق مسائل کو بھی جنم دیتا ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ سیسے کے اثرات اکثر مستقل اور ناقابلِ واپسی ہوتے ہیں۔

اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف علاقوں میں اس مسئلے کی شدت میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ صنعتی علاقوں میں رہنے والے بچے خاص طور پر زیادہ متاثر ہیں، جہاں غیر منظم صنعتی اخراج، بیٹریوں کی غیر رسمی ری سائیکلنگ، سیسے سے بھرپور پینٹ، اور آلودہ خوراک و مصالحہ جات جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال ماحولیاتی تحفظ اور صنعتی نگرانی کے نظام میں موجود سنگین کمزوریوں کی عکاسی کرتی ہے۔

عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں بچوں میں سیسے کی آلودگی کی شرح بلند ترین سطحوں میں شمار کی جاتی ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ملک کے 80 فیصد تک بچے کسی نہ کسی حد تک اس زہریلے مادے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے اثرات صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ذہنی صلاحیت میں کمی اور پیداواری استعداد میں گراوٹ کے باعث پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔

یہ صورتحال حکومتی اداروں، پالیسی سازوں اور معاشرے کے تمام طبقات کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ صنعتی اخراج پر سخت کنٹرول، ماحولیاتی قوانین پر مؤثر عملدرآمد، غیر قانونی بیٹری ری سائیکلنگ مراکز کے خلاف کارروائی، سیسے پر مشتمل پینٹ اور مصنوعات پر پابندی، اور خوراک کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

مزید برآں، بچوں کی صحت کے پروگراموں میں خون میں سیسے کی سطح کی باقاعدہ جانچ کو شامل کرنا ضروری ہے تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔ عوامی آگاہی مہمات بھی اس حوالے سے کلیدی اہمیت رکھتی ہیں، کیونکہ والدین کی بڑی تعداد اس خطرے سے لاعلم ہے۔

حکومت کو چاہیے کہ ایک جامع قومی حکمتِ عملی تشکیل دے جس میں صحت، ماحولیات، صنعت اور تعلیم کے شعبوں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی موجود ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ تحقیق اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ پالیسی سازی ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کی جا سکے۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ سیسے کی آلودگی ایک "خاموش قاتل" ہے جو ہمارے بچوں کے مستقبل کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہی ہے۔ اگر آج اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ فوری، مربوط اور پائیدار اقدامات کے ذریعے اس خطرے کا سدباب کیا جائے تاکہ پاکستان کے بچے ایک محفوظ اور صحت مند ماحول میں پروان چڑھ سکیں۔