جنوبی وزیرستان لوئر کی تحصیل برمل کے مختلف علاقوں میں محکمہ جنگلات کی حالیہ بھرتیوں کے حوالے سے مقامی آبادی نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
علاقہ مکینوں کے مطابق زم چن سے لے کر سرے خاورے، درہ نشتر، سٹے خولہ اور نیزی نرائی تک کے علاقوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور احساسِ محرومی بڑھتا جا رہا ہے۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان علاقوں میں جنگلاتی وسائل، خصوصاً چلغوزے کے درخت، بڑی تعداد میں موجود ہیں اور یہاں کے رہائشی ان وسائل کے اصل محافظ بھی ہیں۔ اس کے باوجود انہیں روزگار کے مواقع میں مناسب نمائندگی نہیں دی جا رہی۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ جنگلات کی حالیہ 27 آسامیوں میں بھی ان علاقوں کے نوجوانوں کو شامل نہیں کیا گیا، جس سے بھرتی کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھرتیوں میں میرٹ کے بجائے سفارش اور اثر و رسوخ کو ترجیح دی جا رہی ہے، جو کہ مقامی نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ جن علاقوں میں جنگلاتی وسائل زیادہ ہوں، وہاں کے لوگوں کو روزگار میں ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ وہ اپنے وسائل کے تحفظ میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
عوام نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ جنگلات کی بھرتیوں میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے، مقامی نوجوانوں کو ان کا جائز حق دیا جائے اور نظرانداز کیے جانے کے عمل کو فوری طور پر ختم کیا جائے، تاکہ علاقے میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔
