پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں افغان مہاجرین کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ایس ایس پی آپریشن کی ہدایت پر شہر کے حساس اور گنجان آباد علاقوں میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے، جبکہ داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ بھی سخت کر دی گئی ہے۔
مختلف علاقوں میں چھاپے اور گرفتاریاں
اطلاعات کے مطابق کارروائیوں کے دوران درجنوں افغان باشندوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی نشاندہی اور سیکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ زیر حراست افراد کی دستاویزات کی جانچ پڑتال جاری ہے، جبکہ جن افراد کے پاس قانونی دستاویزات موجود ہیں انہیں کلیئر کیا جا رہا ہے۔
کرایہ داری سے متعلق سخت ہدایات
پولیس حکام کی جانب سے تمام تھانوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ اگر کوئی پاکستانی شہری غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندے کو مکان کرائے پر دے گا تو متعلقہ مالک کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ اس ضمن میں کرایہ داری ایکٹ پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے۔
شناختی کارڈ سے متعلق تحقیقات
ذرائع کے مطابق بعض افغان باشندوں کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے قومی شناختی کارڈ حاصل کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ متعلقہ ادارے ایسے کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر جعلسازی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی متوقع ہے۔
مزید اقدامات کا امکان
حکام کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں یہ آپریشن مرحلہ وار جاری رہے گا اور سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کرایہ داری اور شناختی دستاویزات کے حوالے سے قانونی تقاضوں کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تمام کارروائیاں قانون کے مطابق کی جا رہی ہیں، جبکہ عوام کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مستند معلومات کے لیے متعلقہ حکام کے بیانات پر انحصار کریں اور غیر مصدقہ خبروں سے گریز کریں۔
