کوہاٹ میں پیش آنے والا المناک واقعہ محض ایک فرد کی جان کے ضیاع کا سانحہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویّوں، مذہبی فہم اور اجتماعی برداشت پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ ایک ڈاکٹر، جو اپنے پیشے کے تقاضوں کے مطابق اپنی برادری کی خدمت میں مصروف تھیں، ایک سادہ اور معقول درخواست کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنیں اور جان کی بازی ہار گئیں۔ یہ واقعہ جہاں دل دہلا دینے والا ہے، وہیں ہماری اجتماعی بے حسی کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
ایک معالج کا بنیادی فریضہ زندگی بچانا، درد کم کرنا اور مریض کی عزتِ نفس کا تحفظ کرنا ہے۔ اگر کوئی ڈاکٹر خواتین مریضوں کی رازداری اور وقار کو یقینی بنانے کے لیے کوئی انتظامی یا اخلاقی درخواست کرتی ہے تو یہ نہ صرف اس کا پیشہ ورانہ حق بلکہ اس کی ذمہ داری بھی ہے۔ ایسے میں تشدد کا راستہ اختیار کرنا نہ صرف قانون کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی اور اخلاقی اقدار کی کھلی نفی بھی ہے۔
یہ سانحہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں پیش آیا—وہ مہینہ جو اپنے اندر ایک گہرا اخلاقی اور روحانی پیغام رکھتا ہے۔ رمضان ہمیں صبر، ضبطِ نفس، برداشت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے۔ یہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے نفس کی تربیت، غصے پر قابو پانے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کا عملی اظہار ہے۔ افسوس کہ ہم میں سے بہت سے لوگ روزے کی ظاہری مشقت تو برداشت کر لیتے ہیں، مگر اپنے مزاج کی سختی اور فوری ردِعمل پر قابو نہیں پا پاتے۔
یہ سوال نہایت اہم ہے کہ اگر ہم ایک معقول بات سننے کی بھی برداشت نہیں رکھتے تو روزے کی اصل روح کہاں باقی رہ جاتی ہے؟ اگر غصہ، انا اور احساسِ برتری ہمارے رویّوں پر غالب رہیں تو عبادت کی تاثیر محض ایک رسم تک محدود ہو جاتی ہے۔ روزہ دراصل انسان کو اپنی خواہشات اور جذبات کا غلام بننے سے روکتا ہے۔ وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ طاقت کا حقیقی اظہار برداشت اور درگزر میں ہے، نہ کہ جارحیت اور انتقام میں۔
اس واقعے نے ایک اور اہم پہلو بھی نمایاں کیا ہے: خواتین کی عزت، رازداری اور تحفظ کے حوالے سے ہمارا اجتماعی شعور۔ صحت کے مراکز میں خواتین مریضوں کی نجی زندگی اور وقار کا تحفظ کوئی اضافی رعایت نہیں بلکہ ایک بنیادی حق ہے۔ جو معاشرہ اس حق کو تسلیم کرنے اور اس کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے، وہ اپنی اخلاقی بنیادوں کو کمزور کرتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس سانحے کو محض ایک افسوسناک خبر سمجھ کر فراموش نہ کریں۔ ہمیں بطور معاشرہ سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ ہماری تربیت، ہماری مذہبی تعلیم اور ہمارا سماجی نظام کہاں کمزور پڑ رہا ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو برداشت، مکالمے اور قانون کی پاسداری کا درس دے رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے مذہبی شعائر کی روح کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں یا صرف ان کی ظاہری ادائیگی پر اکتفا کر رہے ہیں؟
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون کی عمل داری کو یقینی بنائے اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دے، تاکہ معاشرے کو واضح پیغام ملے کہ تشدد کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح مذہبی و سماجی رہنماؤں پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے خطبات اور اجتماعات میں صبر، برداشت اور انسانیت کے پیغام کو زیادہ شدّت اور وضاحت کے ساتھ اجاگر کریں۔
کوہاٹ کا یہ سانحہ ہمارے لیے ایک دردناک یاد دہانی ہے کہ عبادت کا حقیقی مقصد انسان کے باطن کی اصلاح ہے۔ اگر ہمارے رویّے تبدیل نہیں ہوتے، اگر ہم کمزور اور بے دفاع افراد کے ساتھ عدم برداشت کا مظاہرہ کرتے رہیں، تو ہمیں اپنی دینداری کے تصور پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔
اللہ تعالیٰ مرحومہ ڈاکٹر پر اپنی رحمت نازل فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے، اور ہمیں بحیثیت معاشرہ وہ شعور، تحمل اور انصاف پسندی عطا کرے جس کے بغیر نہ دین مکمل ہوتا ہے اور نہ انسانیت۔
