رمضان المبارک صبر، شکر اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔ یہ وہ بابرکت وقت ہے جب مسلمان دن بھر بھوک اور پیاس برداشت کر کے نہ صرف عبادت کرتے ہیں بلکہ دوسروں کی تکلیف کو بھی محسوس کرتے ہیں۔ یہ مہینہ ہمیں سادگی، قناعت اور اعتدال کا درس دیتا ہے۔ مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ہمارے معاشرے میں اس مہینے کی روح کسی حد تک بدلتی جا رہی ہے۔ عبادات کے ساتھ ساتھ ہماری توجہ کا بڑا حصہ کھانے پینے کی تیاریوں پر مرکوز ہو چکا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے کئی مسائل جنم لیتے ہیں۔

جیسے ہی شعبان کا اختتام قریب آتا ہے، بازاروں میں غیر معمولی رش دیکھنے کو ملتا ہے۔ رمضان کی تیاری کے نام پر آٹا، چاول، چینی، بیسن، تیل، مشروبات اور دیگر اشیائے خوردونوش بڑی مقدار میں خریدی جانے لگتی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے رمضان عبادت سے پہلے خریداری کا مہینہ بن گیا ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہماری ضرورتیں بڑھ جاتی ہیں یا ہمارا طرزِ زندگی بدل جاتا ہے؟

رمضان آتے ہی ہمارے دسترخوان کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ عام دنوں میں سادہ دال، سبزی یا ایک سالن پر اکتفا کرنے والے گھروں میں افطار کے وقت کئی کئی ڈشیں سجائی جاتی ہیں۔ پکوڑے، سموسے، رول، چاٹ، دہی بھلے، فروٹ چاٹ، شربت اور جوسز، پھر اس کے بعد رات کے کھانے میں بریانی یا قورمہ — یہ سب گویا لازم و ملزوم بن چکا ہے۔ سحری میں بھی پراٹھے اور مرغن سالن عام ہو گئے ہیں۔

محتاط اندازوں کے مطابق رمضان میں گھریلو سطح پر کھانے کی تیاری عام مہینوں کی نسبت 25 سے 30 فیصد تک بڑھ جاتی ہے، جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔ بڑے شہروں میں افطار پارٹیوں کا بڑھتا ہوا رجحان اخراجات میں مزید اضافہ کر دیتا ہے، جہاں فی کس خرچ ہزاروں روپے تک جا پہنچتا ہے۔ یوں عبادت کا مہینہ غیر محسوس طور پر اخراجات کے مہینے میں بدل جاتا ہے۔

معاشی اصول کے مطابق جب طلب بڑھتی ہے تو قیمتیں بھی اوپر جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق رمضان سے قبل اور ابتدائی ایام میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اوسطاً 15 سے 30 فیصد تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ پھل، سبزیاں، بیسن، چینی اور تیل خاص طور پر متاثر ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت اس اضافے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔

یہ اضافہ بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر کم آمدنی والے طبقے کے لیے یہی چند روپے بھی بہت اہم ہوتے ہیں۔ ایک دیہاڑی دار مزدور جو روزانہ کی کمائی سے گھر چلاتا ہے، جب بنیادی اشیاء کی قیمت میں اضافہ دیکھتا ہے تو اس کا بجٹ بکھر جاتا ہے۔ مختلف معاشی جائزوں کے مطابق ملک میں بڑی تعداد ایسے گھرانوں کی ہے جو اپنی آمدنی کا نصف سے زیادہ حصہ صرف خوراک پر خرچ کرتے ہیں۔ ایسے میں رمضان کی مہنگائی ان کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیتی ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ رمضان تو ہمیں غریبوں کا احساس دلانے آتا ہے، مگر اگر ہمارے رویے ہی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن جائیں تو کیا ہم اس مہینے کا مقصد پورا کر رہے ہیں؟ ضرورت سے زیادہ خریداری طلب میں اضافہ کرتی ہے، اور یہی اضافہ قیمتوں کو بڑھا دیتا ہے۔ یوں ہماری غیر ضروری عادات کسی اور کے لیے پریشانی بن جاتی ہیں۔

صحت کا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ روزہ دراصل جسم کو اعتدال اور توازن کا موقع فراہم کرتا ہے، مگر افطار کے وقت تلی ہوئی اور مرغن اشیاء کی بھرمار اس فائدے کو زائل کر دیتی ہے۔ ماہرینِ صحت کے مطابق رمضان میں معدے کی خرابی، تیزابیت اور بدہضمی کے کیسز میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ زیادہ تیل میں تلی ہوئی اشیاء وقتی لذت تو دیتی ہیں، مگر طویل مدت میں صحت پر منفی اثرات چھوڑتی ہیں۔

اکثر لوگ افطار کے فوراً بعد اس قدر زیادہ کھا لیتے ہیں کہ تراویح میں کھڑا ہونا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ سحری میں بھاری غذا نیند اور سستی کا باعث بنتی ہے۔ یوں جس مہینے میں جسمانی اور روحانی بہتری مقصود ہو، ہم اپنی ہی عادات سے خود کو نقصان پہنچا دیتے ہیں۔

رمضان میں کھانے کے ضیاع کا مسئلہ بھی قابلِ توجہ ہے۔ دسترخوان پر رکھی کئی اشیاء استعمال نہیں ہوتیں اور کچرے کی نذر ہو جاتی ہیں۔ اگر ہر گھرانہ صرف ایک اضافی ڈش کم بنا لے تو نہ صرف اخراجات کم ہو سکتے ہیں بلکہ خوراک کا ضیاع بھی نمایاں حد تک گھٹ سکتا ہے۔

مسئلہ پکوان بنانا نہیں، بلکہ اعتدال کا فقدان ہے۔ اہلِ خانہ کے ساتھ افطار کرنا یقیناً خوشی کی بات ہے، مگر جب یہ خوشی اسراف میں بدل جائے تو اس کے اثرات معاشرے پر بھی پڑتے ہیں۔ اگر ہم افطار کو سادہ رکھیں — کھجور، پانی، پھل اور ہلکی غذا تک محدود — تو صحت بھی بہتر رہے گی اور خرچ بھی قابو میں رہے گا۔

ہمیں اجتماعی طور پر اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ضرورت کے مطابق خریداری کریں، ذخیرہ اندوزی سے بچیں اور سادگی اپنائیں تو مارکیٹ میں طلب کا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست فائدہ قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں ہوگا اور کمزور طبقے کو کچھ ریلیف مل سکے گا۔

رمضان کا اصل حسن اسی میں ہے کہ ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، نہ کہ مشکلات۔ اگر ہمارے دسترخوان پر بے شمار ڈشیں ہوں اور ہمارے پڑوس میں کوئی خالی برتن لیے بیٹھا ہو تو ہمیں رک کر سوچنا چاہیے کہ کیا ہم واقعی اس مہینے کا حق ادا کر رہے ہیں؟

آئیے اس رمضان ایک عہد کریں کہ ہم سادگی اپنائیں گے، غیر ضروری اخراجات سے بچیں گے اور اتنا ہی خریدیں گے جتنی ضرورت ہو۔ ہم اپنی نئی نسل کو بھی یہ سکھائیں گے کہ رمضان کا مقصد پیٹ بھرنا نہیں بلکہ دل بھرنا ہے — ہمدردی، شکر اور قناعت کے جذبے سے۔

اگر ہم نے اپنے رویے بدل لیے تو نہ صرف ہماری صحت بہتر ہوگی بلکہ مہنگائی کے اثرات بھی کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔ کیونکہ معاشرے کی تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے، اور رمضان ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اصل کامیابی اعتدال، احساس اور ذمہ داری میں ہے۔