خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت نے ویگرنسی کنٹرول اینڈ ریہیبلیٹیشن بل کو صوبائی کابینہ میں پیش کرنے کی منظوری دے کر ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ یہ بل محض انسدادِ گداگری تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع سماجی اصلاحی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے، جس کا مقصد منظم، جبری اور استحصالی بھیک کے خاتمے کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی بحالی، اصلاح اور انسانی وقار کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

یہ اقدام اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ گداگری صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ سماجی و معاشی چیلنج ہے۔ اس کے مؤثر حل کے لیے سخت قانونی کارروائی کے ساتھ سماجی تحفظ، تعلیم، ہنرمندی اور باعزت روزگار کے مواقع کی فراہمی ناگزیر ہے۔ مجوزہ قانون منظم اور جبری بھیک کو سنگین جرم قرار دیتا ہے، بچوں کو بھیک پر مجبور کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتا ہے اور استحصالی نیٹ ورکس کے خاتمے کے لیے واضح سزاؤں اور مؤثر نفاذی نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

اس ضمن میں محکمہ سوشل ویلفیئر، سپیشل ایجوکیشن اینڈ ویمن ایمپاورمنٹ، حکومتِ خیبر پختونخوا کلیدی کردار ادا کرے گا۔ محکمہ متاثرہ افراد خصوصاً بچوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ بحالی مراکز، نفسیاتی و سماجی معاونت، رسمی و غیر رسمی تعلیم، فنی تربیت اور ہنرمندی کے پروگرامز کے ذریعے انہیں خودکفالت کی راہ پر گامزن کرے گا۔ یہ ماڈل سزا کے بجائے اصلاح، بحالی اور معاشرتی انضمام کو ترجیح دیتا ہے۔

وزیراعلیٰ کو اس حوالے سے بریفنگ مسٹر عمرہ خان، ایڈیشنل سیکرٹری سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ نے دی، جس میں واضح کیا گیا کہ یہ قانون وقتی اقدامات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ بحالی مراکز، روزگار کے مواقع اور کمیونٹی شراکت داری کو مربوط حکمتِ عملی کے تحت فعال کر کے پائیدار حل فراہم کرے گا۔

صوبہ خیبر پختونخوا میں یہ اقدام گداگری جیسے سنگین سماجی مسئلے کے حل کے لیے سخت قانون، مؤثر نفاذ اور باوقار بحالی کو یکجا کرنے کی عملی کوشش ہے۔ تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بل کو اس کی حقیقی روح کے مطابق نافذ کیا جائے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی، شفاف مانیٹرنگ، مناسب وسائل کی فراہمی اور عوامی شعور کی بیداری کے ساتھ۔

اگر اس پالیسی پر سنجیدگی، تسلسل اور خلوصِ نیت سے عملدرآمد یقینی بنایا گیا تو یہ نہ صرف منظم گداگری کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرے گی بلکہ ایک باوقار، محفوظ اور بااختیار معاشرے کے قیام میں سنگِ میل ثابت ہوگی۔