پاکستان میں خواتین کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات محض خبروں کی سرخیاں نہیں بلکہ ہمارے سماجی ڈھانچے کی کمزوری کا واضح ثبوت ہیں۔ آئے روز کسی نہ کسی شہر سے کسی نوجوان لڑکی یا شادی شدہ خاتون کی زندگی کے خاتمے کی اطلاع سامنے آتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور اس سانحے میں ہماری اجتماعی ذمہ داری کیا ہے؟

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں لاکھوں افراد خودکشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور نوجوانوں میں یہ اموات کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتی ہیں۔ پاکستان میں اگرچہ خودکشی سے متعلق مکمل اور مستند قومی اعداد و شمار دستیاب نہیں، تاہم مختلف تحقیقی جائزے اور سماجی تنظیموں کی رپورٹس اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ بعض علاقوں میں خواتین میں خودکشی کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کی سالانہ رپورٹس کے مطابق گھریلو تشدد، جبری شادی، غیرت کے نام پر دباؤ اور انصاف کے حصول میں رکاوٹیں خواتین کو شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سماجی رابطوں کے ذرائع کا غیر ذمہ دارانہ استعمال بھی ایک نئے بحران کو جنم دے رہا ہے۔ خفیہ تصاویر یا ریکارڈ شدہ مناظر کے ذریعے دھمکیاں دینا، برخط ہراسانی اور کردار کشی جیسے عوامل نوجوان لڑکیوں کی عزتِ نفس کو شدید متاثر کرتے ہیں۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اکثر متاثرہ خواتین کو اپنے ہی گھروں میں مکمل حمایت حاصل نہیں ہوتی۔ خاندان بدنامی کے خوف سے معاملات دبانے کو ترجیح دیتا ہے جبکہ قانونی کارروائیاں طویل اور صبر آزما ثابت ہوتی ہیں۔ نتیجتاً متاثرہ خاتون خود کو تنہا، بے سہارا اور مایوس محسوس کرتی ہے۔

ریاست نے خواتین کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین نافذ کیے ہیں اور قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں جیسے ادارے قائم کیے ہیں جو خواتین کے حقوق کے تحفظ اور قانون سازی کے جائزے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم اصل مسئلہ ان قوانین پر مؤثر اور فوری عمل درآمد کا ہے۔ جب تک متعلقہ ادارے سنجیدگی اور حساسیت کا مظاہرہ نہیں کریں گے، متاثرہ خواتین کو بروقت ریلیف فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

پاکستان میں ذہنی صحت کی سہولیات کی کمی بھی ایک اہم سبب ہے۔ تعلیمی اداروں میں مؤثر رہنمائی اور مشاورت کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ دیہی علاقوں میں ماہرینِ نفسیات تک رسائی محدود ہے۔ ایسے حالات میں ذہنی افسردگی اور دباؤ سنگین صورت اختیار کر لیتے ہیں اور بروقت مدد نہ ملنے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔

اس سنگین مسئلے کا حل محض قانون سازی میں نہیں بلکہ سماجی رویّوں کی اصلاح میں مضمر ہے۔ ہمیں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کو سننے، سمجھنے اور ان کا ساتھ دینے کی روایت کو فروغ دینا ہوگا۔ عزت کے نام پر خاموشی مسلط کرنے کے بجائے ان کے مسائل کو ہمدردی اور کھلے دل سے سننا ہوگا۔ ذرائع ابلاغ کو بھی سنسنی خیزی کے بجائے ذمہ دارانہ اور حساس رپورٹنگ کو ترجیح دینی چاہیے۔

خواتین کی خودکشی کا ہر واقعہ دراصل ہماری اجتماعی ناکامی کا آئینہ دار ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کہیں ہمارا معاشرہ اپنے کمزور طبقات کے لیے ناقابلِ برداشت تو نہیں بنتا جا رہا۔ اگر بروقت اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔

وقت کا تقاضا ہے کہ ریاست، معاشرہ اور خاندان مل کر ایسی فضا قائم کریں جہاں کسی خاتون کو مایوسی کے عالم میں اپنی زندگی ختم کرنے کا خیال بھی نہ آئے بلکہ اسے یقین ہو کہ مشکل کی ہر گھڑی میں اسے سہارا، تحفظ اور انصاف ضرور ملے گا۔