خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نظام کی مبینہ معطلی، مطالبات کی عدم منظوری اور صوبائی حکومت کی مبینہ وعدہ خلافیوں کے خلاف لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا نے 3 مارچ 2026 بروز منگل سے صوبائی اسمبلی کے سامنے بھرپور احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ دھرنے کے شرکاء افطار اور سحر بھی اسمبلی کے سامنے کریں گے۔
یہ فیصلہ سٹی میٹروپولیٹن پشاور میں منعقدہ ہنگامی اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت میئر پشاور حاجی زبیر علی اور میئر مردان حمایت اللہ مایار نے کی۔ اجلاس میں صوبے بھر سے بلدیاتی نمائندوں نے شرکت کی، جن میں ترجمان ایسوسی ایشن و تحصیل چیئرمین لکی مروت عزیز اللہ مروت، چیئرمین تحصیل پشتخرہ ہارون صفت، چیئرمین تحصیل لنڈی کوتل زیشان غزنی خیل، چیئرمین ثمر باغ دیر پایین سعید احمد باچا، میئر کوہاٹ قاری شیر زمان، کوآرڈینیٹر انتظار خلیل اور دیگر نمائندگان شامل تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے میئر پشاور حاجی زبیر علی نے کہا کہ صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی کے باعث مقامی حکومتیں مفلوج ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق دورِ حکومت میں بلدیاتی نظام میں ترامیم کے ذریعے اسے کمزور کیا گیا اور تاحال بنیادی مسائل حل نہیں کیے گئے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعدد وعدوں کے باوجود کسی پر عمل درآمد نہیں ہوا۔
میئر مردان اور صدر لوکل کونسلز ایسوسی ایشن خیبرپختونخوا حمایت اللہ مایار نے کہا کہ مضبوط اور فعال بلدیاتی نظام ہی عوام کو گھر کی دہلیز پر میونسپل اور سماجی خدمات کی مؤثر فراہمی یقینی بنا سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے بلدیاتی اداروں کو اختیارات اور وسائل سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ادوار میں حکومت سے مذاکرات ہوئے اور سابق وزرائے اعلیٰ کی جانب سے یقین دہانیاں بھی کرائی گئیں، تاہم عملی پیش رفت نہیں ہو سکی۔
رہنماؤں کے مطابق موجودہ وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم ہر بار ملاقات منسوخ کر دی گئی۔ گزشتہ احتجاج کے موقع پر کمشنر پشاور کی جانب سے تین روز میں ملاقات کی یقین دہانی بھی تاحال پوری نہیں کی گئی۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 3 مارچ سے شروع ہونے والے احتجاجی دھرنے میں صوبے بھر سے ہزاروں بلدیاتی نمائندے شرکت کریں گے۔ میئر پشاور نے تمام بلدیاتی نمائندوں، سیاسی جماعتوں کے قائدین، کارکنوں اور اہلِ پشاور سے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔
