جمرود میں آئس (کرسٹل میتھ) اور ایچ ٹی سی گولیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال نے علاقے کو سنگین صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق منشیات کی لت نوجوانوں کی بڑی تعداد کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد نوجوان تعلیم، روزگار اور خاندانی ذمہ داریوں سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے اور اس کے منفی اثرات معاشرتی امن پر واضح طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔

جرائم میں اضافہ، شہریوں میں خوف و ہراس

منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ہی جمرود میں چوری، راہزنی اور قتل جیسے سنگین جرائم میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق منشیات فروش عناصر کھلے عام سرگرم ہیں، جبکہ نوجوان نسل تیزی سے اس لعنت کا شکار بن رہی ہے، جس سے نہ صرف خاندان بلکہ پورا معاشرہ متاثر ہو رہا ہے۔

آئی جی پولیس خیبر پختونخوا سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ

اہلِ علاقہ نے خیبر پختونخوا پولیس کے آئی جی سے مطالبہ کیا ہے کہ جمرود میں ایک باصلاحیت اور جرات مند پولیس افسر تعینات کیا جائے تاکہ منشیات فروشوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے جمرود کو منشیات جیسے ناسور سے نجات دلائی جا سکے گی اور علاقے میں پائیدار امن و امان بحال ہوگا۔