ضلع خیبر کی تحصیل جمرود میں ایک نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف لواحقین نے پاک افغان شاہراہ پر تھانہ جمرود کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے نعمان آفریدی کی لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا، جس کے باعث شاہراہ پر ٹریفک کی آمد و رفت معطل ہو گئی اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

مقتول کے والد واحد شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے محمد نعمان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق چند روز قبل زمینی تنازعے پر مخالف فریق کے ساتھ فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد دونوں جانب سے چھ افراد کو ایس ایچ او جمرود کے حوالے کیا گیا تھا، جن میں نعمان بھی شامل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر افراد تاحال تھانہ جمرود میں موجود ہیں، جبکہ ان کے بیٹے کی لاش پشاور سے ملی۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بیٹے کی رہائی کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد رقم کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ لواحقین نے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی اپیل کی ہے۔

احتجاج کے دوران بعض مشتعل افراد نے جمرود تحصیل گیٹ کے قریب پتھراؤ بھی کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

دوسری جانب سرکاری ذرائع کے مطابق نعمان آفریدی کو گزشتہ رات حیات آباد پولیس مبینہ طور پر جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جا رہی تھی کہ اس دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے وہ جاں بحق ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور حقائق سامنے لائے جائیں گے۔