سوات: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے، اگر آج عمران خان سے ملاقات کرائی جائے تو مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
سوات میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ مذاکرات میں ڈیڈلاک حکومتی رویے کے باعث پیدا ہوا، حکومت نے مذاکرات کے دوران مطلوبہ لچک کا مظاہرہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے ڈیڈلاک سے کوئی تعلق نہیں۔ اگر آج پی ٹی آئی قیادت کی عمران خان سے ملاقات کرا دی جائے تو مذاکرات کے عمل میں پیش رفت ممکن ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری ہیں، تاہم مرکزی حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 10 ارب روپے میں سے 10 روپے بھی فراہم نہیں کیے گئے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک انصاف نے آل پارٹیز کانفرنس بلائی، جس میں 22 سیاسی جماعتوں نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل تیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات اور پی ٹی آئی کے سیاسی مسائل کو دہشت گردی کے معاملے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا دھرنا جاری رہے گا۔ دھرنے کا آغاز خیبر پختونخوا سے کیا گیا ہے اور اگر اسے اسلام آباد منتقل کیا گیا تو ملک بھر سے پی ٹی آئی کارکن اس میں شرکت کریں گے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے بعض ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو لاپتہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان افراد کو لاپتہ کرنے والوں کو خبردار کرتے ہیں کہ ’’ہوش کے ناخن لیں۔‘‘
