لنڈی کوتل: گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لنڈی کوتل کی سٹوڈنٹس یونین نے کالج کا دوبارہ فاٹا یونیورسٹی سے الحاق کیے جانے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کالج کا الحاق پشاور یونیورسٹی کے ساتھ برقرار رکھا جائے یا پشاور میں موجود کسی دوسری یونیورسٹی سے الحاق کیا جائے۔

ڈسٹرکٹ خیبر پریس کلب لنڈی کوتل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سٹوڈنٹس یونین کے صدر انیس شینواری، جنرل سیکرٹری تنویر، نائب سینئر صدر باسط، نائب صدر عطاء اللہ اور انفارمیشن سیکرٹری رومان نے کہا کہ کالج کا الحاق ایک مرتبہ پھر فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ کیا جا رہا ہے، جس سے طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔

طلبہ نمائندوں کے مطابق 2024 میں صوبائی کابینہ نے مختلف کالجوں کا فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کرنے کا فیصلہ کیا تھا، تاہم طلبہ کے احتجاج اور کوششوں کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ صوبائی وزیر تعلیم مینا خان آفریدی نے ایک اجلاس میں دو سال کے لیے این او سی بھی جاری کیا تھا، تاہم اب اس کی تجدید نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ فاٹا یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کے بعد بی ایس پروگرام میں زیر تعلیم طلبہ کے کمپیوٹر کے علاوہ دیگر تمام مضامین کو اے ڈی پروگرام میں تبدیل کر دیا گیا، جس سے طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔

سٹوڈنٹس یونین کے نمائندوں نے مطالبہ کیا کہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج لنڈی کوتل کا الحاق پشاور یونیورسٹی کے ساتھ برقرار رکھا جائے۔ اگر پشاور یونیورسٹی کے ساتھ الحاق ممکن نہیں تو پشاور میں موجود کسی دوسری یونیورسٹی کے ساتھ الحاق کی سہولت فراہم کی جائے۔

طلبہ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع خیبر پختونخوا میں ضم ہوچکے ہیں، اس لیے طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ الحاق کے حوالے سے دیگر صوبائی اضلاع کے طلبہ کے مساوی سہولیات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کالج انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ الحاق کا مسئلہ حل ہونے تک داخلہ پورٹل عارضی طور پر بند کیا جائے اور مسئلہ حل ہونے کے بعد اسے دوبارہ کھولا جائے۔

سٹوڈنٹس یونین نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا سلسلہ شروع کیا جائے گا، جس کے دوران پاک افغان شاہراہ کو بھی احتجاجاً ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند کرنے کا اقدام کیا جا سکتا ہے۔