ضلع خیبر: تحریکِ متاثرینِ تیراہ کے چیئرمین رحمت شاہ آفریدی کی قیادت میں تیراہ متاثرین نے ڈپٹی کمشنر خیبر کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرین نے مالی امداد کے بقایاجات کی ادائیگی، فیز ون اور جی آر سی اسکیموں میں رہ جانے والے پرانے و نئے متاثرین کو امداد کی فراہمی، جبکہ جی آر سی اور اندراج سے محروم متاثرین کی رجسٹریشن کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے تیراہ کے شہداء اور زخمیوں کے لیے بھی فوری مالی پیکیج جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
تحریکِ متاثرینِ تیراہ کے ترجمان صحبت آفریدی نے کہا کہ 1300 متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد کی فراہمی کے لیے ان کے نام پی ڈی ایم اے کو ارسال کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ چار سے پانچ روز کے دوران جاز بینک کے ذریعے امدادی رقم منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نئے اندراج سے رہ جانے والے تیراہ متاثرین کے لیے بھی 10 اکتوبر سے قبل رجسٹریشن سینٹرز قائم کیے جائیں گے، تاکہ کوئی مستحق خاندان مالی امداد سے محروم نہ رہے۔
صحبت آفریدی کے مطابق تیراہ کے شہداء اور زخمیوں میں سے 57 افراد کی فہرست مکمل کرکے مالی پیکیج کے لیے سیکرٹری ریلیف کو ارسال کر دی گئی ہے، جبکہ باقی شہداء اور زخمیوں کی فائلوں پر ضروری کارروائی بھی پانچ روز کے اندر شروع کرکے انہیں مالی پیکیج کے لیے ارسال کیا جائے گا۔
دھرنے کے شرکاء نے مطالبات کی منظوری کے لیے ایک ہفتے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے کہا کہ تیراہ متاثرین، شہداء اور زخمیوں کے جائز حقوق اور مالی پیکیجز کی فراہمی میں مزید تاخیر قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
