سوات میں دو نوجوان طالب علموں کی جانب سے اپنے ہی ہم جماعت کو مبینہ طور پر حجرے میں لے جا کر پستول کے زور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور مبینہ طور پر اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلانے کی خبر نے ایک بار پھر بچوں اور نوجوانوں کے تحفظ، خاندانی تربیت، سماجی نگرانی اور ہماری اجتماعی ذمہ داری سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔
یہ معاملہ صرف ایک مبینہ جنسی جرم تک محدود نہیں بلکہ اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے گھروں، خاندانوں، حجروں، تعلیمی اداروں اور دیگر سماجی اداروں میں بچوں اور نوجوانوں کی تربیت، نگرانی اور تحفظ کا نظام کس حد تک مؤثر ہے۔
سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ جنسی زیادتی کو کسی بھی صورت میں ’’شرارت‘‘، ’’لڑکوں کا مذاق‘‘ یا معمولی غلطی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اگر تحقیقات میں الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ ایک سنگین مجرمانہ فعل ہوگا، جس میں طاقت، دھمکی، جنسی تشدد اور متاثرہ بچے کے وقار کی پامالی شامل ہے۔ مبینہ طور پر اسلحے کا استعمال اور واقعے کی ویڈیو بنا کر اسے پھیلانا معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا سکتا ہے اور متاثرہ بچے کو دوبارہ ذہنی اذیت سے دوچار کر سکتا ہے۔
اخلاقی بحران کہاں ہے؟
ہم اپنے بچوں کو مذہب، روایات، عزت اور غیرت کے تصورات تو سکھاتے ہیں، لیکن کیا ہم انہیں جسمانی حدود، دوسرے انسان کے احترام، جنسی استحصال، طاقت کے غلط استعمال اور ڈیجیٹل ذمہ داری کے بارے میں بھی مناسب تعلیم دیتے ہیں؟
اخلاقی تربیت صرف نصیحتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ کسی دوسرے انسان کے جسم، عزت اور نجی زندگی پر اسے کوئی حق حاصل نہیں۔ اسی طرح انہیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ کسی ساتھی کو دھمکانا، اس کی تصویر یا ویڈیو بنانا اور اسے دوسروں تک پہنچانا انتہائی نقصان دہ عمل ہے۔
اس حوالے سے والدین، خاندان کے بڑوں، اساتذہ، دینی رہنماؤں اور معاشرے کے دیگر بااثر افراد کا کردار انتہائی اہم ہے۔
حجرہ: روایت سے ذمہ دارانہ نگرانی تک
پشتون معاشرے میں حجرہ صرف ایک عمارت نہیں بلکہ ایک اہم سماجی ادارہ ہے۔ روایتی طور پر یہ مہمان نوازی، مشاورت، اجتماعی بیٹھک اور سماجی رابطے کا مرکز رہا ہے۔
تاہم اگر کسی حجرے میں بچے اور نوجوان بلا نگرانی موجود ہوں، خطرناک اشیا تک ان کی رسائی ہو اور ان کی سرگرمیوں پر کسی ذمہ دار بالغ کی نظر نہ ہو تو ایک مثبت سماجی ادارہ بھی خطرے کا مقام بن سکتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ حجرہ یا ہماری روایات بذاتِ خود مسئلہ ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ان روایتی اداروں کو بدلتے ہوئے حالات کے مطابق زیادہ محفوظ اور ذمہ دار بنایا جائے۔
ہمیں یہ سوال بھی اٹھانا چاہیے کہ کم عمر یا نوجوان افراد تک پستول کیسے پہنچا؟ انہیں موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات تک کس نوعیت کی رسائی حاصل تھی؟ گھر اور حجرے میں ان کی سرگرمیوں کے بارے میں والدین اور خاندان کے بڑوں کو کس حد تک علم تھا؟ اور اگر کسی نوجوان کے رویے میں غیر معمولی تبدیلی محسوس ہوئی تو کیا کسی نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی؟
یہ سوالات کسی پورے خاندان کو اجتماعی طور پر ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ضروری ہیں۔
خاندان کے بڑوں کی ذمہ داری
والدین یا خاندان کے سربراہ ہر جرم کے براہِ راست ذمہ دار نہیں ہوتے، تاہم بچوں کی مناسب تربیت، نگرانی اور محفوظ ماحول فراہم کرنا ان کی اہم ذمہ داری ہے۔
بچوں سے صرف یہ پوچھنا کافی نہیں کہ وہ کہاں جا رہے ہیں، بلکہ والدین کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کس کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، کہاں بیٹھتے ہیں، ان کے پاس کون سی اشیا ہیں، ان کی آن لائن سرگرمیاں کس نوعیت کی ہیں اور ان کے رویے میں کوئی غیر معمولی تبدیلی تو نہیں آ رہی۔
خاص طور پر اسلحے کے معاملے میں خاندانوں کو غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔ کسی نوجوان کی غیر محفوظ طریقے سے پستول تک رسائی نہ صرف قانونی بلکہ ایک بڑا حفاظتی خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
اسی طرح موبائل فون اور انٹرنیٹ کے استعمال کو مکمل آزادی یا مکمل پابندی کے بجائے ذمہ دارانہ نگرانی، اعتماد اور مناسب تربیت کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔
قانونی راستہ اختیار کرنا ضروری ہے
بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کو خاندانی دباؤ، جرگے یا غیر رسمی مفاہمت کے ذریعے دبانے کے بجائے متعلقہ قانون کے مطابق رپورٹ اور تفتیش کیا جانا چاہیے۔
ایسے معاملات میں سب سے اہم چیز متاثرہ بچے کا تحفظ، رازداری اور اسے انصاف تک محفوظ رسائی فراہم کرنا ہے۔ کسی بھی تحقیقات میں یہ اصول پیش نظر رہنا چاہیے کہ متاثرہ بچے کو مزید نقصان یا ذہنی اذیت سے محفوظ رکھا جائے۔
سب سے اہم: متاثرہ بچے کا تحفظ
ایسے واقعات کے بعد معاشرے میں ایک عام رویہ یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سوالات ملزم کے بجائے متاثرہ بچے سے کیے جانے لگتے ہیں۔
’’وہ وہاں کیوں گیا؟‘‘، ’’اس نے پہلے کیوں نہیں بتایا؟‘‘ یا ’’اس نے مزاحمت کیوں نہیں کی؟‘‘ جیسے سوالات متاثرہ بچے کو مزید خوف اور خاموشی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے کو محفوظ ماحول، طبی اور نفسیاتی معاونت، قانونی مدد اور رازداری فراہم کی جائے۔ اس کی شناخت، تصویر یا ایسی ویڈیو جس سے اس کی شناخت ظاہر ہو، سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کی جانی چاہیے۔
صرف سزا نہیں، روک تھام بھی ضروری
ہر واقعے کے بعد چند دن غم و غصہ، گرفتاری اور انصاف کے مطالبات کے بعد معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کیسے کی جائے؟
خاندانوں میں مثبت تربیت اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی، مدارس اور تعلیمی اداروں میں واضح حفاظتی پالیسیوں کا نفاذ، حجروں اور دیگر اجتماعی مقامات پر ذمہ دار بالغوں کی نگرانی، نوجوانوں کے لیے محفوظ شکایتی نظام، بچوں کی اسلحے تک رسائی کی روک تھام اور ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق تعلیم کو معمول کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔
حکومت، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس، تعلیمی و دینی اداروں اور سول سوسائٹی کو بھی باہمی تعاون سے ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں کوئی بچہ خوف یا شرمندگی کے بغیر بدسلوکی کی اطلاع دے سکے۔
اجتماعی ذمہ داری
بچوں کی حفاظت صرف پولیس یا ریاست کی ذمہ داری نہیں اور نہ ہی صرف والدین اس کے ذمہ دار ہیں۔ یہ گھر، خاندان، حجرہ، مدرسہ، اسکول، محلہ، سوشل میڈیا اور ریاست سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ہمیں اپنے روایتی اداروں کو ختم کرنے کی نہیں بلکہ انہیں بدلتے ہوئے دور کی ضروریات کے مطابق زیادہ محفوظ بنانے کی ضرورت ہے۔
حجرہ ہماری روایت ہے، خاندان ہماری بنیاد ہے اور بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ان تینوں کے درمیان تربیت، نگرانی اور تحفظ کا مضبوط رشتہ قائم نہ کیا گیا تو صرف کسی واقعے کے بعد سزا دینا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔
