خیبر : باڑہ برقمبرخیل قوم کی قومی مجلسِ عام نے معدنیات سے متعلق امور میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قومی مشاورت کو نظر انداز کیے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تمام معاملات کی مکمل وضاحت اور مبینہ طور پر حاصل کی گئی لیزیں منسوخ کرکے نئے سرے سے شفاف طریقہ کار اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار احمد جان نے باڑہ پریس کلب میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حاجی انعام، قاسم گل، واصل، عبدالصمد سمیت دیگر مشران اور کشران بھی موجود تھے۔
احمد جان نے کہا کہ برقمبرخیل قوم کی مختلف شاخوں پر مشتمل قومی مجلسِ عام کے مطابق معدنیات سے متعلق امور کے لیے باقاعدہ قومی مشاورت کے بعد احمد جان ولد فقیر جان کا نام متفقہ طور پر منتخب کیا گیا تھا، جبکہ اس مقصد کے لیے فنڈز کا بھی بندوبست کیا گیا۔ بعد ازاں مسلم انصاف مائننگ پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے کمپنی قائم کی گئی اور دفتری امور کی انجام دہی کے لیے واجد علی ولد لال ور خان کو منشی مقرر کیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعد میں احمد جان کی جگہ مبینہ طور پر واجد علی کا نام استعمال کیا گیا، جبکہ احمد جان کو صرف اسسٹنٹ کی حیثیت سے رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس صورتحال پر قوم کی جانب سے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افراد سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
احمد جان نے مزید دعویٰ کیا کہ اورنگزیب کے نام پر بھی قوم کی پیشگی مشاورت کے بغیر مبینہ طور پر چار لیزیں حاصل کی گئیں۔ ان کے مطابق اس معاملے میں نہ عوام کو اعتماد میں لیا گیا، نہ باقاعدہ مجلسِ عام منعقد کی گئی اور نہ ہی عوامی سطح پر کوئی اشتہار جاری کیا گیا۔
انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ معدنیات اور لیزوں سے متعلق تمام معاملات کی مکمل تفصیلات قوم کے سامنے پیش کی جائیں اور مستقبل میں اس نوعیت کے تمام اقدامات قومی مشاورت اور شفاف طریقہ کار کے تحت کیے جائیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قوم کی مشاورت کے بغیر مبینہ طور پر حاصل کی گئی تمام لیزیں منسوخ کرکے معاملے کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے اور نئے سرے سے شفاف طریقے سے تمام قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔
