کراچی: اورنگی ٹاؤن سیکٹر 10 کی بسم اللہ کالونی میں 18 سالہ زرقہ بی بی کے مبینہ قتل کے واقعے نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ معاشرے کے رویوں، پسند کی شادی، خاندانی اختلافات اور انسانی جان کی حرمت سے متعلق کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق زرقہ بی بی کو مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا۔ واقعے کے حوالے سے زرقہ کے شوہر عبد المالک کا کہنا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو تقریباً پانچ سال سے جانتے تھے اور انہوں نے پسند کی شادی کی تھی۔
عبد المالک کے مطابق اس نے زرقہ کے گھر والوں سے شادی کے لیے پہلے بھی رشتہ بھیجا تھا، تاہم اہلِ خانہ کی جانب سے انکار کیا گیا۔ بعد ازاں دونوں نے کورٹ میرج کرلی۔ شوہر کے بیان کے مطابق بعد میں دونوں خاندانوں کے درمیان راضی نامہ بھی ہوگیا تھا۔
شوہر کا مزید دعویٰ ہے کہ زرقہ کے چچا ادریس اسے گھر لے جانے کے لیے آئے اور یقین دہانی کرائی کہ گھر میں شادی کی رسومات مکمل ہونے کے بعد اسے باقاعدہ رخصت کردیا جائے گا۔ ان کے مطابق زرقہ کو کوئی نقصان نہ پہنچانے کی یقین دہانی کے لیے قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر حلف بھی دیا گیا۔
تاہم شوہر کے بیان کے مطابق زرقہ کو اسی رات مبینہ طور پر قتل کردیا گیا۔
پولیس کے مطابق واقعے میں زرقہ کے بھائی سفیر خان، چچا ادریس، ماموں جمیل سمیت دیگر رشتہ داروں پر بھی مبینہ طور پر ملوث ہونے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان الزامات کی حتمی تصدیق اور ذمہ داری کا تعین تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہوسکے گا۔
اس واقعے کے بعد ایک بنیادی سوال یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اگر خاندان زرقہ کی پسند کی شادی سے اختلاف رکھتا تھا تو اسے دوبارہ اعتماد میں لے کر گھر کیوں بلایا گیا؟ اور اگر دونوں خاندانوں کے درمیان واقعی راضی نامہ ہوگیا تھا تو پھر معاملہ اس المناک انجام تک کیسے پہنچا؟
سب سے اہم سوال اس مبینہ یقین دہانی سے متعلق ہے جس کے بارے میں شوہر کا دعویٰ ہے کہ زرقہ کو قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر تحفظ کی ضمانت دی گئی تھی۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو پھر اعتماد، وعدے اور انسانی جان کی حرمت کے حوالے سے یہ ایک انتہائی سنگین اخلاقی اور قانونی معاملہ بن جاتا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ عہد پورا کرنے اور پختہ قسموں کو نہ توڑنے کی تاکید فرماتے ہیں۔ سورۃ النحل میں ارشاد ہے:
"اور اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرو، اور قسموں کو پکا کرنے کے بعد نہ توڑو، جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو۔"
(سورۃ النحل، 16:91)
اسی طرح احادیثِ مبارکہ میں وعدہ خلافی اور امانت میں خیانت کو منافقانہ اوصاف میں شمار کیا گیا ہے۔
یہاں اصل سوال کسی کی پسند کی شادی کی تائید یا مخالفت کا نہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ کیا کسی اختلاف کا جواب کسی انسان کی جان لینا ہوسکتا ہے؟
اگر خاندان کو کورٹ میرج پر اعتراض تھا تو بات چیت، خاندانی مذاکرات یا قانونی راستے اختیار کیے جاسکتے تھے۔ اختلاف اپنی جگہ، لیکن اختلاف کو تشدد یا قتل تک لے جانا کسی صورت ایک معمولی معاملہ نہیں۔
اس واقعے کا ایک اور اہم پہلو معاشرتی رویہ ہے۔ سوشل میڈیا پر ایسے واقعات کے بعد بعض اوقات قتل کو "غیرت" یا "عزت" کے نام پر درست ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ہمیں یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کسی انسان کی جان لینے کو عزت کا نام دینا کس طرح قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟
اگر زرقہ نے کورٹ میرج کرکے اپنے خاندان کی خواہش کے برخلاف فیصلہ کیا تھا تو اس پر خاندان کے اختلاف کا حق اپنی جگہ موجود ہوسکتا ہے، لیکن کسی اختلاف کو جان لینے کا جواز قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ واقعہ ہمیں اس بنیادی سوال پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اپنی اگلی نسل کو کیسا معاشرہ دینا چاہتے ہیں؟
ایسا معاشرہ جہاں اختلاف ہو تو بات چیت اور قانون کا راستہ اختیار کیا جائے، یا ایسا معاشرہ جہاں اختلاف کا جواب تشدد اور قتل کی صورت میں دیا جائے؟
زرقہ بی بی کے واقعے کی مکمل حقیقت تحقیقات کے بعد ہی سامنے آسکے گی، تاہم یہ واقعہ اس بات کی یاد دہانی ضرور ہے کہ انسانی جان، وعدے، اعتماد اور قانون کی پاسداری کو خاندانی انا، نام نہاد عزت یا معاشرتی دباؤ سے بالاتر رکھنا ہوگا۔
