صوابی: تھانہ پرمولی پولیس نے گورنمنٹ کالج کے چوکیدار سجاد علی کے اندھے قتل کا سراغ لگاتے ہوئے مبینہ مرکزی ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق مقتول کا قریبی دوست ہی قتل میں ملوث نکلا، جس نے رقم کے لین دین کے تنازع پر اسے قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 21 اکتوبر 2026 کو تھانہ پرمولی کی حدود میں واقع ایک ویران کنویں سے گورنمنٹ کالج کے چوکیدار سجاد علی ولد بصور، سکنہ شیوہ، محلہ توحید آباد کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ واقعے کے بعد علاقے میں تشویش اور افسوس کی فضا پھیل گئی تھی۔ واقعے کا مقدمہ طارق خان کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی وقاص رفیق نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس افسران کو قتل کی واردات کے اصل حقائق سامنے لانے اور ملوث ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔

ڈی ایس پی سرکل رزڑ شکیل خان کی قیادت میں ایس ایچ او تھانہ پرمولی سید الطاف باچا نے تفتیشی ٹیم کے ہمراہ جدید سائنسی و تکنیکی ذرائع اور پیشہ ورانہ تفتیش کی مدد سے کیس کا سراغ لگایا اور قلیل وقت میں ملزم تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی۔

پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران مقتول سجاد علی کے قریبی دوست ابوبکر ولد مصطفیٰ، سکنہ شیوہ، محلہ توحید آباد کو گرفتار کرلیا گیا۔ دورانِ تفتیش ملزم نے مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ رقم کے لین دین کے تنازع پر اس نے سجاد علی کو بہانے سے گھر سے بلایا اور ویرانے میں کنویں کے قریب سر پر فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد لاش کنویں میں پھینک دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم سے مزید تفتیش جاری ہے، جس کے دوران واردات سے متعلق مزید اہم حقائق سامنے آنے کی توقع ہے۔