اسلام آباد : جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی اسلام آباد میں رہائش گاہ سے متعلق کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے مبینہ غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات پر نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سی ڈی اے نے خلاف ورزیاں ختم کرنے کے لیے 15 روز کی مہلت دیتے ہوئے مقررہ مدت میں عمل درآمد نہ ہونے پر قانونی کارروائی اور عمارت سیل کرنے کی تنبیہ کی ہے۔

سی ڈی اے کے ڈائریکٹوریٹ آف بلڈنگ کنٹرول (سٹی) کی جانب سے جاری نوٹس میں اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس فور، اسٹریٹ نمبر 83، پلاٹ نمبر 07 پر واقع عمارت میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز 2020 (ترمیم شدہ 2023) کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

نوٹس کے مطابق عمارت کے سیٹ بیکس میں غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں، جبکہ سی ڈی اے کی اراضی پر گارڈ پوسٹیں اور جنریٹر بھی نصب کیا گیا ہے۔

سی ڈی اے نے نوٹس میں بتایا ہے کہ جائیداد کے مالک نے 18 مارچ 2019 کو ایک حلف نامہ جمع کرایا تھا، جس میں تین ماہ کے اندر سیٹ بیکس کی خلاف ورزیاں ختم کرنے اور متعلقہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی گئی تھی، تاہم اتھارٹی کے مطابق اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔

سی ڈی اے نے ہدایت کی ہے کہ نوٹس کے اجراء سے 15 روز کے اندر تمام نشاندہی شدہ خلاف ورزیاں ختم کی جائیں، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

نوٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں غیر قانونی تعمیرات کو مسمار یا سیل کرنے کے علاوہ جائیداد کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے لیے بھی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔

ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول سیکشن ٹو کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کی نقول سی ڈی اے کے متعلقہ اعلیٰ حکام کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ سی ڈی اے کا یہ نوٹس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی دارالحکومت میں سرکاری اراضی پر تجاوزات اور غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔