خیبر: ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کے علاقے شلوبر میں مبینہ پولیس فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے خلاف جاری احتجاج کامیاب مذاکرات کے بعد ختم کر دیا گیا، جبکہ جاں بحق نوجوان کی میت تدفین کے لیے روانہ کر دی گئی۔
مظاہرین اور متعلقہ حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اتفاق کیا گیا کہ اگر جاں بحق نوجوان بے گناہ ثابت ہوا تو واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی اور متاثرہ خاندان کے تمام جائز مطالبات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
معاہدے کے تحت گھر پر فائرنگ کے واقعے پر باقاعدہ ننواتے (معذرت) بھی کیا جائے گا، جبکہ فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والی بچی کے علاج معالجے اور متاثرہ خاندان کو معاوضے کی ادائیگی کا عمل بھی جاری رکھا جائے گا۔
مذاکرات میں اے آر ڈی سی کے ممبر حاجی شیرین آفریدی، چیف آف اکاخیل ملک ظاہر شاہ، ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر باڑہ امان اللہ خان، باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر ہاشم خان، سابق رکن صوبائی اسمبلی محمد شفیق آفریدی، انجمن تاجران باڑہ کے صدر سید ایاز وزیر، حاجی استکار سمیت دیگر قبائلی مشران اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
اس موقع پر پشاور پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے۔ مذاکرات میں پیش رفت اور مطالبات پر اتفاق کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد جاں بحق نوجوان کی میت کو تدفین کے لیے روانہ کر دیا گیا۔
