خیبر پختونخوا کے قبائلی اور دور دراز علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم آج بھی متعدد رکاوٹوں سے دوچار ہے۔ اسکولوں کی کمی، طویل فاصلے، غربت، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، خواتین اساتذہ کی کمی اور بنیادی سہولیات کا فقدان بہت سی بچیوں کے لیے پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنا مشکل بنا دیتا ہے۔

پشاور کے سب ڈویژن حسن خیل کے دور دراز علاقے، خصوصاً موسیٰ درہ، پستوے، گورے، شامت خیل اور بوڑہ، اسی صورتحال کی ایک مقامی تصویر پیش کرتے ہیں، جہاں مقامی افراد کے مطابق بعض علاقوں میں بچیوں کے لیے مڈل اور ہائی اسکول کی مناسب سہولت موجود نہیں۔

یہاں ایک بچی کے لیے پرائمری اسکول تک پہنچنا اس کے تعلیمی سفر کی تکمیل نہیں بلکہ اکثر ایک ایسے مرحلے کا اختتام بن جاتا ہے جس کے بعد مڈل اور ہائی اسکول تک پہنچنے کے لیے اسے طویل فاصلوں، دشوار گزار راستوں اور اضافی اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
 

قبائلی اضلاع میں گرلز اسکولوں کی محدود تعداد:

خیبر پختونخوا کے سالانہ اسکول شماری 2023-24 کے مطابق نئے ضم شدہ اضلاع میں مجموعی طور پر 6,394 سرکاری اسکول موجود تھے، جن میں 6,036 فعال جبکہ 358 غیر فعال تھے۔

ثانوی سطح کے 1,306 اسکولوں میں 389 گرلز مڈل، 108 گرلز ہائی اور صرف 10 گرلز ہائر سیکنڈری اسکول شامل تھے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فعال سرکاری اسکولوں میں 81 فیصد میں پانی، 57 فیصد میں بجلی اور 90 فیصد میں بیت الخلا کی سہولت موجود تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں تک رسائی کے ساتھ ساتھ بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ایک اہم چیلنج ہے۔

تعلیمی اداروں کی تعداد میں لڑکیوں کے لیے ثانوی سطح کے اسکولوں کا محدود ہونا اس سوال کو بھی اہم بناتا ہے کہ پرائمری تعلیم مکمل کرنے والی بچیوں کو مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سطح تک کیسے پہنچایا جائے۔
 

پرائمری کے بعد راستہ کہاں ہے؟

حسن خیل کے دور دراز علاقوں میں مقامی صحافی شُمائلہ آفریدی کے مطابق مسئلہ صرف اسکول کی عمارت کا نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام تک رسائی کا ہے۔

ان کے مطابق بعض علاقوں میں والدین اپنی بچیوں کو تعلیم دلانا چاہتے ہیں، لیکن ان کے سامنے بنیادی سوال یہ ہوتا ہے کہ بچیوں کو کہاں اور کیسے پڑھایا جائے؟

اگر قریب میں گرلز مڈل یا ہائی اسکول موجود نہ ہو تو والدین کے لیے بچیوں کو دور دراز علاقوں میں روزانہ بھیجنا آسان نہیں۔ دشوار گزار پہاڑی راستے، ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی، مالی مشکلات اور بعض علاقوں میں سیکیورٹی کے خدشات اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔

شُمائلہ آفریدی کے مطابق جہاں اسکول موجود بھی ہوں، وہاں خواتین اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات اور تدریسی عمل کے تسلسل جیسے مسائل سامنے آتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر خواتین اساتذہ کی تعیناتی اور محفوظ تعلیمی ماحول والدین کے اعتماد میں اضافہ کر سکتا ہے اور زیادہ بچیوں کو تعلیم جاری رکھنے کا موقع مل سکتا ہے۔

حکومتی دعوے اور قبائلی اضلاع کی زمینی صورتحال:

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے تعلیم کے فروغ اور تعلیمی سہولیات میں بہتری کے مختلف اقدامات اور دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم قبائلی اضلاع اور دور دراز علاقوں کی زمینی صورتحال ان اقدامات کے اثرات اور ان کی رسائی کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتی ہے۔

حسن خیل جیسے علاقوں میں مقامی آبادی کے مطابق آج بھی کئی بچیاں پرائمری کے بعد تعلیم جاری نہیں رکھ پاتیں، کیونکہ ان کے علاقوں میں گرلز مڈل اور ہائی اسکول موجود نہیں یا قریبی تعلیمی ادارے گھروں سے انتہائی فاصلے پر ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی ترقی کے حکومتی پروگراموں کے ثمرات ان دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے صرف اسکول کی عمارت تعمیر کرنا کافی نہیں بلکہ خواتین اساتذہ، محفوظ ٹرانسپورٹ، پانی، بجلی، بیت الخلا اور دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کرنا ضروری ہیں۔

یہ صورتحال اس سوال کو اہم بناتی ہے کہ صوبائی سطح پر بنائی جانے والی تعلیمی پالیسیوں اور منصوبوں کے فوائد ان علاقوں تک کب اور کس حد تک پہنچ پائیں گے جہاں ایک بچی کے لیے مڈل اسکول تک پہنچنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
 

غربت بھی تعلیم کی راہ میں بڑی رکاوٹ:

تعلیمی ادارے سے فاصلہ بڑھنے کے ساتھ تعلیم کے اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کتابیں، یونیفارم، جوتے، اسٹیشنری اور دیگر ضروری اشیا کے علاوہ روزانہ کے سفری اخراجات غریب خاندانوں کے لیے اضافی بوجھ بن جاتے ہیں۔

ایسے خاندان جہاں آمدن محدود ہو، وہاں بچی کو دور اسکول بھیجنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنا ایک مستقل مالی مسئلہ بن سکتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق حکومت کی جانب سے دور دراز علاقوں میں تعلیمی منصوبہ بندی کرتے وقت صرف اسکول کی عمارت کو ترجیح دینے کے بجائے اس کے ساتھ اساتذہ، خصوصاً خواتین اساتذہ، پانی، بجلی، بیت الخلا، سڑک اور ٹرانسپورٹ سمیت دیگر بنیادی ضروریات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
 

کم عمری کی شادی اور تعلیم کا ٹوٹتا سلسلہ:

جب کسی بچی کے لیے پرائمری کے بعد تعلیم جاری رکھنے کا راستہ محدود ہو جائے تو اس کے تعلیمی اور معاشی مواقع بھی کم ہوتے جاتے ہیں۔

دور دراز علاقوں میں بعض خاندانوں کے لیے مڈل یا ہائی اسکول کی عدم دستیابی کے بعد بچی کا گھر میں رہنا معمول بن جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں کم عمری میں شادی بھی اس کے تعلیمی سفر کو مستقل طور پر ختم کر دیتی ہے۔

تعلیم سے محرومی کا اثر صرف ایک بچی کی زندگی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات خاندان اور آنے والی نسلوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
 

زنیرا: تعلیم کا خواب جو پرائمری کے بعد رک گیا:

بوڑہ سب ڈویژن حسن خیل سے تعلق رکھنے والی 20 سالہ زنیرا اس صورتحال کی ایک مثال ہیں۔

زنیرا کی شادی 16 سال کی عمر میں ہوئی اور آج وہ دو بچوں کی ماں ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ انہیں پڑھنے کا بہت شوق تھا، لیکن پرائمری کے بعد ان کے علاقے میں مڈل اور ہائی اسکول موجود نہیں تھا۔

قریبی اسکول بھی کافی دور تھا۔ پہاڑی راستے، سفری مشکلات اور مالی حالات نے ان کے لیے روزانہ اسکول جانا ممکن نہیں رہنے دیا۔

زنیرا کہتی ہیں:

"میں پڑھنا چاہتی تھی۔ میرا دل تھا کہ آگے پڑھوں، مڈل کسی قریبی اسکول سے کروں اور پھر میٹرک اور انٹر پرائیویٹ طور پر مکمل کرلوں۔ میری خواہش تھی کہ کم از کم ٹیچر بن سکوں، لیکن دور کے اسکول میں جانا میرے لیے مشکل تھا۔ گھر کے حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ میں روزانہ اتنا سفر کر سکتی۔"

زنیرا کے مطابق تعلیم رکنے کے بعد ان کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع بھی محدود ہو گئے۔

"جب میری پڑھائی رک گئی تو میرے لیے آگے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ہمارے علاقے میں لڑکیوں کے لیے تعلیم یا کام کے مواقع نہیں ہیں۔ میں تقریباً 13 سال کی عمر تک پرائمری میں پڑھتی رہی، اس کے بعد گھر والوں کو بھی یہی لگا کہ اب شادی ہی کرنی ہے، اس لیے میری شادی 16 سال کی عمر میں کر دی گئی۔"

آج زنیرا دو بچوں کی پرورش اور گھر کی ذمہ داریاں نبھا رہی ہیں، تاہم تعلیم حاصل کرنے کی خواہش اب بھی ان کے دل میں موجود ہے۔

"میں چاہتی تھی کہ پڑھوں، اپنے پاؤں پر کھڑی ہوں اور اپنے بچوں کو بھی اچھی تعلیم دوں۔ کبھی سوچتی ہوں کہ اگر میرے علاقے میں اسکول ہوتا تو شاید میری زندگی مختلف ہوتی۔"


ایک زنیرا نہیں، کئی بچیوں کی کہانی:

مقامی افراد کے مطابق بوڑہ، پستوے، گورے، فریدی اور حسن خیل کے دیگر دور دراز علاقوں میں زنیرا جیسی کئی بچیوں کو پرائمری کے بعد اسی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔

کچھ بچیاں تعلیم کا سلسلہ جاری نہ رکھ پانے کے بعد گھر کے کام کاج تک محدود ہو جاتی ہیں، جبکہ بعض کی کم عمری میں شادی کر دی جاتی ہے۔

ان علاقوں میں مڈل اور ہائی اسکولوں کی عدم دستیابی صرف تعلیمی اداروں کی کمی نہیں بلکہ بچیوں کے مستقبل کے مواقع سے بھی براہ راست جڑی ہوئی ہے۔
 

ڈیجیٹل تعلیم: موقع بھی، چیلنج بھی:

دور دراز علاقوں میں جہاں فوری طور پر اسکول قائم کرنا مشکل ہو، وہاں ڈیجیٹل تعلیم ایک متبادل ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے انٹرنیٹ، بجلی، موبائل یا کمپیوٹر اور ڈیجیٹل تربیت جیسی بنیادی سہولیات ضروری ہیں۔

حسن خیل کے دور دراز علاقوں میں مقامی افراد کے مطابق موبائل اور انٹرنیٹ نیٹ ورک کی کمزوری بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس وجہ سے طلبہ آن لائن کلاسز، لیکچرز اور دیگر تعلیمی مواد سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

اس صورتحال میں ڈیجیٹل تعلیم کا تصور موجود تو ہے، لیکن اس کے عملی نفاذ کے لیے پہلے بنیادی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم کرنا ہوگا۔
 

حکومتی اقدامات اور زمینی حقیقت:

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں تعلیم کے فروغ کے لیے مختلف پروگرام شروع کیے گئے ہیں، جن میں طالبات کے لیے وظائف بھی شامل ہیں۔

محکمہ تعلیم کے مطابق گرلز اسٹوڈنٹس اسٹائپنڈ پروگرام کے تحت ضم شدہ اضلاع کی 32 ہزار طالبات کے لیے ماہانہ ایک ہزار روپے وظیفہ منظور کیا گیا ہے۔

ایسے اقدامات طالبات کی تعلیم جاری رکھنے میں مالی مدد فراہم کر سکتے ہیں، تاہم دور دراز علاقوں کے لیے مقامی سطح پر گرلز مڈل اور ہائی اسکولوں، خواتین اساتذہ، محفوظ ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے۔
 

صرف اسکول بنانا کافی نہیں:

حسن خیل کے دور دراز علاقوں کی صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کے لیے صرف اسکول کی عمارت تعمیر کرنا کافی نہیں۔

اسکول کے ساتھ مستقل خواتین اساتذہ، پانی، بجلی، بیت الخلا، محفوظ راستے، ٹرانسپورٹ، انٹرنیٹ اور ایسا تعلیمی ماحول ضروری ہے جس میں والدین اپنی بچیوں کو اعتماد کے ساتھ بھیج سکیں۔

اگر پرائمری کے بعد بچیوں کے لیے مڈل اور ہائی اسکول کا راستہ موجود نہ ہو تو پرائمری سطح پر حاصل کی گئی تعلیم بھی آگے کے تعلیمی سفر میں تبدیل نہیں ہو پاتی۔
 

ایک اسکول، ایک راستہ، ایک مستقبل:

حسن خیل کے موسیٰ درہ، پستوے، گورے، شامت خیل اور بوڑہ جیسے علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کا مسئلہ محض اسکولوں کی تعداد کا مسئلہ نہیں۔ یہ فاصلے، غربت، ٹرانسپورٹ، خواتین اساتذہ، بنیادی سہولیات اور محفوظ تعلیمی ماحول سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔

زنیرا کی کہانی بتاتی ہے کہ تعلیم کا خواب صرف اس وقت ادھورا نہیں ہوتا جب کوئی بچی اسکول چھوڑ دیتی ہے؛ کبھی کبھی اسکول کا اس کے گاؤں سے دور ہونا ہی اس خواب کو شروع ہونے سے پہلے ختم کر دیتا ہے۔

ہر بچی کے پیچھے ایک خاندان، ایک خواب اور ایک مستقبل ہوتا ہے۔ کسی دور دراز گاؤں میں گرلز مڈل یا ہائی اسکول کی عدم موجودگی صرف ایک عمارت کی کمی نہیں، بلکہ ان بچیوں کے لیے اپنے مستقبل تک پہنچنے کے ایک اہم راستے کی عدم دستیابی بھی ہے۔