پاکستان کی سیاست میں احتجاج کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ برسوں میں احتجاج کی جغرافیائی سمت نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ایک دلچسپ اور کسی حد تک تشویشناک رجحان یہ سامنے آ رہا ہے کہ قومی سطح کے تنازعات، فیصلے یا واقعات کہیں اور پیش آتے ہیں، مگر احتجاج کا مرکز بار بار خیبر پختونخوا ہی بنتا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر جماعتِ اسلامی پاکستان کا ردِعمل دیکھ لیجیے۔ لاٹھی چارج کراچی میں ہو، مگر احتجاج پشاور میں کیا جائے۔ کیا یہ سیاسی حکمتِ عملی ہے یا محض علامتی سیاست؟
اسی طرح پاکستان تحریکِ انصاف بھی اپنے رہنما یا دیگر سیاسی معاملات پر جلسے، جلوس، ہڑتالیں، احتجاج اور پہیہ جام زیادہ تر اسی صوبے میں کرتی نظر آتی ہے، جہاں اس کی حکومت یا مضبوط سیاسی موجودگی ہے۔
یہ طرزِ عمل کسی حد تک اس نفسیاتی رویے سے مشابہ دکھائی دیتا ہے جس میں بعض “بہادر غیرتی” مرد حضرات، جب باہر ان کی بات نہ سنی جائے یا ان کی نہ چلے، تو مایوسی میں آ کر اپنے ہی گھر میں غصہ نکالنے لگتے ہیں۔ طاقت جہاں چل سکتی ہو، احتجاج بھی وہیں زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا احتجاج وہاں ہونا چاہیے جہاں مسئلہ پیدا ہو، یا وہاں جہاں ردِعمل دینا آسان ہو؟
دوسری طرف ملک کے دیگر حصوں میں لوگ اپنی روزمرہ زندگیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں—روزگار، تعلیم، کاروبار، سماجی و تفریحی سرگرمیاں اور ترقیاتی منصوبے۔ وہاں احتجاج کی سیاست نسبتاً کم نظر آتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ عوام میں سیاسی شعور بڑھ رہا ہے؛ لوگ سیاسی جماعتوں کے مفادات، طاقت کے کھیل اور عوامی جذبات کے استعمال کو پہلے سے بہتر طور پر سمجھنے لگے ہیں۔
مگر خیبر پختونخوا میں صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ یہاں احتجاج ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ گویا سیاسی جماعتیں اپنی توانائی اور بے بسی دونوں کا اظہار اسی میدان میں کرتی ہیں جہاں انہیں فوری ردِعمل، میڈیا کی توجہ اور ممکنہ سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔
نتیجتاً صوبہ ایک مستقل سیاسی تجربہ گاہ بنتا جا رہا ہے۔ ہر نیا بیانیہ، ہر نئی تحریک، ہر نیا احتجاج سب سے پہلے یہیں آزمایا جاتا ہے۔ وعدے کیے جاتے ہیں، امیدیں جگائی جاتی ہیں، جذبات ابھارے جاتے ہیں اور پھر عوام کو ایک نئے “لالی پاپ” کے ساتھ اگلی سمت میں روانہ کر دیا جاتا ہے جیسے کسی کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا جائے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ احتجاج کیوں ہو رہا ہے، بلکہ یہ ہے کہ احتجاج کہاں اور کیوں ہو رہا ہے؟
اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی سیاسی جدوجہد ہے… یا صرف ایک محفوظ میدان میں طاقت کے مظاہرے کی عادت؟
جب تک اس سوال کا ایماندارانہ جواب نہیں ملتا، خیبر پختونخوا شاید سیاست کی سب سے مصروف تجربہ گاہ ہی بنی رہے گی اور عوام اس تجربے کا مستقل حصہ ہوگا۔
