پشاور پولیس لائنز میں ہونے والے خودکش دھماکے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں پشاور ہائیکورٹ نے مبینہ سہولت کار کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق، عدالت عالیہ نے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزم امتیاز کی ضمانت منظور کی۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے میں نامزد 40 گواہان میں سے تاحال صرف 9 کے بیانات قلم بند ہو سکے ہیں، جبکہ واقعے کو تین سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی عمر دھماکے کے وقت 18 سال سے کم تھی، اس لیے وہ جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 کے زمرے میں آتا ہے۔ قانون کے مطابق ایسے مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر ہونا لازم ہے، تاہم طویل تاخیر ملزم کے بنیادی قانونی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عدالت نے تمام پہلوؤں اور قانونی نکات کا جائزہ لینے کے بعد پشاور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے ملزم کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
یاد ریے پشاور پولیس لائنز میں خودکش دھماکہ 30 جنوری 2023 کو نمازِ ظہر کے دوران پیش آیا تھا، جس میں پولیس اہلکاروں سمیت درجنوں افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ پشاور پولیس لائنز میں ہونے والا یہ خودکش دھماکہ ملک کے سنگین ترین واقعات میں شمار ہوتا ہے
